آنکھوں میں بسا لوں گی میں طیبہ کی گلیوں کو
پلکوں سے لگا لوں گی میں خاک مدینہ کو
دنیا جو میری گزری محمد کی اطاعت میں
قبر ہو گی میری روشن جنت کی ہوا ہو گی
پھیلے گی ہر سمت خوشبو ذکر میرے نبی کا ہے
ہونٹوں پہ مٹھاس آئی گردن بھی جھکی ہو گی
اس طرح سے بھٹکوں گی میں طیبہ کی گلیوں میں
دم نکلے صدف کا پھر جنت میں دفن ہو گی
(لبنیٰ صدف)














