ٹیکنالوجی نے جہاں انسانی زندگی کوسہل بنایا وہاں متاثر بھی کیا: سعدیہ راشد

کراچی (نمائندہ رنگ نو ) ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیر صدارت ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز’’کیا

ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ ہے؟‘‘ کے موضوع پر بیت الحکمہ آڈیٹوریم ، مدینۃ الحکمہ کراچی میں منعقد ہوا۔معروف مصنف اور صحافی فیض اللہ خان  اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔ نظامت کے فرائض اسپیکر اسپیکر سیدہ مریم فاطمہ(ہمدرد پبلک اسکول)نے انجام دئیے۔

محترمہ سعدیہ راشد نے صدارتی خطبے میں کہاکہ آج ہم جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہیں ۔ ٹیکنالوجی کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکارنہیں کرسکتا۔ تعلیم ہو یا کھیل، زراعت ہو یا صنعت ، تجارت ہو یا شعبہ طب نیز زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیںجس پر جدید ٹیکنالوجی اثر انداز نہ ہوئی ہو۔ ٹیکنالوجی نے یقیناً انسانی زندگی کو سہل بنادیا لیکن ہماری طرز زندگی بھی پوری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ہماری تہذیب، گفتگو اور افکارکو بدل دیا ہے۔ہماری زندگی میں ایجادات کا سفر جاری ہے ۔ ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل ہوئے بنا اورٹیکنالوجی میں مہارت اور سائنسی مضامین پر عبور حاصل کیے بنا نہ ملک کا دفاع ممکن ہے اور نہ قوم کی بقا۔ انٹرنیٹ نے کاروبار، مالیاتی لین دین، سیاست، صحافت اور تعلیم سمیت دیگر کئی سماجی سرگرمیوں میں انقلابی تبدیلیاں کردی ہیں۔ جدید طرز تعلیم کو اپنا کر ہی ہم مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے والی بااخلاق اور ہنر مند افرادی قوت پیدا کرسکتے ہیں۔ طلبہ کو انٹرنیٹ کے درست استعمال کی تربیت و ترغیب دینا ہوگی۔ اسکرین کا مسلسل استعمال ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ منفی اثرات کا ذکر کرنے کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے بلکہ یہ ترغیب دی جائے کہ اس کا ضرورت کے وقت ہی استعمال کیا جائے۔ شہید حکیم محمد سعید کا قول ہے، سائنس پڑھو آگے بڑھو۔ پاکستان نے اہم سنگ میل عبور کیا۔ آئی کیوب قمر کامیابی سے چاند کے مدار پر پہنچ گیا ہے۔ یہ بہ طور قوم ہماری بہت بڑی کامیابی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہونا چاہیے۔

فیض اللہ خان صاحب نےنونہال مقررین کی الفاظ اور اشعار پر گرفت کو سراہا اور کہاکہ نونہال مقررین کی بہترین گفتگو کا کریڈٹ ہمدرد نونہال اسمبلی کو جاتا ہے جہاں نونہالان وطن کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کریں۔یہ پلیٹ فارم ایک بہت غیر معمولی اور عظیم انسان شہید پاکستان حکیم محمد سعید نے نونہالان وطن کی فکری آبیاری کے لیے قایم کیا تھا۔ وہ ایک اعلا اور نامور طبیب تھے، یہی اُن کی وجہ شہرت بھی تھی۔ لیکن سرسید ثانی شہید حکیم محمد سعید حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے۔ اُنھوں نے ازخود نئی نسل کی ذہن و کردار سازی کا بیڑا اُٹھایااور اداروں سے بڑھ کر ایسی خدمات انجام دیں جن کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔ ماہ نامہ ہمدرد نونہال کے نام سے ایسا شاندار ماہانہ شمارہ نکالا جس سے اگلی کئی نسلیں مستفید ہوئیں اور آج بھی ہورہی ہیں۔ یوں تو اُردو زبان کا ادبی ذخیرہ بہت وسیع ہے تاہم ادب اطفال کی بہر کیف کمی رہی ہے۔آج بھی عمومی طور پر اخبارات رسائل و جرائد میں بچوں کے صفحات نہیں ہوتے۔ لیکن ہمدرد نونہال نے اب اُردو کے ادب اطفال کے ذخیرے میں نمایاں اور قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ شہید کے خاص نونہالوں کے لیے لکھے سفرناموں نے ہمیں اپنے بچپن میں دنیا کے کئی ممالک کی ثقافت و تہذیب سے روشناس کروایا۔ اُنھوں نے طلبہ کو نصیحت بھی کی کہ وہ ماہ نامہ ہمدرد نونہال کے مطالعے کی عادت کو اپنائیںاور صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے نہ بنیں بلکہ جدت پیدا کرنے والے بنیں۔  

نونہال مقررین بہ شمول اسپیکر سیدہ مریم فاطمہ(ہمدرد پبلک اسکول)، قائد ایوان عائشہ فواد(ہمدرد پبلک اسکول)، قائد حزب اختلاف سید محمد شجاع(ہمدردپبلک اسکول)، بسمہ(ہمدرد ولیج اسکول)، عائشہ سلطان(روزہائوس گرامر اسکول)، عائشہ عقیل ( آئیڈا ریواسکول) اوراسماظہور(آئیڈا ریو اسکول) نے کہاکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ عالم ایجاد میں صاحب ایجاد معاشرے کو اقوام عالم میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان ایجادات کا استعمال انسانی زندگی کو سہل بنارہا ہے، ایسی امراض کا علاج دریافت ہوچکا جو محض ایک صدی قبل ناقابل علاج سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن ٹیکنالوجی کی برق رفتاری سےسماجی و اخلاقی بُرائیاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ اس ترقی کی دوڑ میں دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا بہت ضروری ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کا استعمال مثبت انداز میں کیا جائے تو انسان کی فلاح و بہبود میں گراں قدر اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن اس کا منفی استعمال پوری انسانیت کے لیے زہر قاتل ہے۔ آزادی فکر کو درست سمت دینا اور تحقیق و ایجادات کو اپنی اقدار کے طابع رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ورنہ بے سمت فکر و تدبر ہمارے معاشرے کی اخلاقیات کو تباہ کردے گی۔ ٹیکنالوجی کی بدولت آج دنیا گلوبل ولیج کی شکل اختیار کرگئی ہے ۔معراجِ ارتقائے بشر یعنی ٹیکنالوجی معاشروں کی ازسر نو تشکیل کررہی ہے۔ سائنس میں کمال حاصل کرنے کے بعد ہی انسان کو معلوم ہوا کہ انسانی یادداشت میں سب سے زیادہ طاقتور تصویری یادداشت ہے ۔ اسی لیے آج دنیا بھر کے تعلیمی اداروںاور جامعات میںبھی پیچیدہ ترین سائنسی مضامین حتیٰ کہ ریاضی بھی اینی میٹڈویڈیوزکی مدد سےپڑھائے جارہے ہیں۔جن کو دیکھ کر طلبہ باآسانی سیکھ جاتے ہیں اور انھیں نیچرل اورفورمل سائنسز یعنی ریاضی، شماریات،فلکیات، طبیعات، طب، کیمیاء اور حیاتیات وغیرہ سیکھنے میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ای بُکسآلات کے ذریعے طلبہ بیک وقت کئی کتابوں تک سہل انداز میں رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں وہی اقوام آگے ہیں جو سائنسی مضامین پر عبور رکھتے ہیں۔ ہمارے ملک کے پسماندگی کی بڑی وجہ بھی سائنسی سوچ و فکر کو نہ اپنانا ہے۔ عالمی منظر نامے میں اپنے وطن کو نمایاں کرنے کے لیے ہمیں جدید علوم میں دسترس حاصل کرنے کے ساتھ اپنے کاروباری، مالیاتی نظام، شعبہ صحت نیز ہر شعبہ ہائے زندگی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانیت کی فلاح و بہبود ہے۔ اخلاقیات سے عاری غیر تربیت یافتہ اقوام کے ہاتھوں میں ٹیکنالوجی کسی ہتھیار سے کم نہیں۔اگر ٹیکنالوجی اخلاقیات سے بالا تر ہو تو اس کے طفیل حاصل ہونے والی ترقی بے کار محض ہے۔ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہر انسان کو اپنا مقدر خود بنانے کی طاقت دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں زمانہ قبل کی طرح جدید سائنسی علوم پر محض چند ممالک کی دسترس برقرار نہیں رہی۔ انٹرنیٹ پر جدید معلومات کا سمندر موجود ہے جو چاہے اپنے علم میں بے پناہ اضافہ کرسکتا ہے۔

تقریب میں پی این جی اسکول کے طلبہ نے موضوع کی مناسبت سے خصوصی خاکہ پیش کیا۔ قومی نغمہ منزہ (آئیڈا ریواسکول و کالج) نے پیش کیا۔ اجلاس کے اختتام پر ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد ولیج اسکول کے طلبہ نے دعائے سعید پیش کی۔