ہمدرد شوریٰ کراچی کےماہانہ اجلاس کا جنرل ( ر)معین الدین حیدرکی زیرصدارت انعقاد

 کراچی ( نمائندہ رنگ نو )ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی موجودگی میں ہمدرد شوریٰ کراچی کا ماہانہ  اجلاس ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقد ہوا، جس کی

صدارت اسپیکر ہمدرد شوریٰ جنرل (ر) معین الدین حیدر نےانجام دی۔ اجلاس کا موضوع قائداعظم کا قول ’’دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی‘‘ تھا ۔

 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ظفر اقبال نے کہا کہ بلاشبہ حالیہ پاک بھارت تنازعے میں افواج پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے خطے میں اپنا رعب و دبدبہ قایم کیا ہےلیکن آج کا پاکستان اُس خواب کی درست تعبیر نہیں جو بانیان مملکت نے دیکھا تھا۔ زمانہ ِ جدید میں ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل کرکے بہت تیزی سے ترقی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے ہنرمند اور فکری تربیت کی حامل افرادی قوت تیارکرنا تھی جوہم نہیں کرپائے۔ بھارتی جارحیت کاخطرہ ہنوز قایم ہے لہٰذا پاکستان کو اپنے دفاع کو مزید مؤثر اور طاقتور کرنے کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے کاروباری سیکٹر کو متحرک کرنا اور سفارتی حمایت دینا ہوگی تاکہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو۔

 

جسٹس (ر) ضیا پرویز نے کہا کہ مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت ناگزیر ہے۔ اقتصادی طور پر مستحکم ممالک ہی اپنے مفادات کے لیے زیادہ بہتر سفارت کاری کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ البتہ ابھی عالمی حالات پاکستان کے لیے نہایت سازگار ہیں۔ حالیہ جنگ میں کامیابی سے پاکستان کے عالمی وقار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ قائد اعظم کا قول ہمارے قومی جذبے کاعکاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ زمین حق کے ساتھ پیدا کی ہے۔ ہم نے اس الہامی حکم سے انحراف کیا اور حق تلفیوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بتدریج زوال کا شکار ہے۔

 

پروفیسر ڈاکٹرحکیم عبدالحنان نے کہاکہ پاکستان کو بیرونی سے زیادہ اندرونی خلفشار سے خطرہ ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی تو دنیا معترف ہوچکی، لیکن اب اندرونی امن و امان پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ بدعنوانی کی روک تھام کے لیے قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہوگی۔ قائد اعظم پاکستان کو ایک پُرامن معاشرے کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ہمیں اُن کے تصورات کے مطابق پاکستان کو ڈھالنا ہےتاکہ پاکستان اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کرسکے۔ سب سے پہلے قوم سازی پر توجہ دینا ہوگی اور لوگوں میں مذہبی و لسانی اختلافات پر تحمل و برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔

 

پروفیسر ڈاکٹر امجد جعفری نے کہاکہ قائد اعظم برطانیہ سے ایک مقدس مشن کو پوراکرنے کے لیے ہندوستان واپس آئے تھے کہ پاکستان بنانا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کا ہم پر احسان ہے کہ وہ اُنھوںنے ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنادیا۔ لیکن آج کتنے ہی مستقبل کے سائنس دان، سرسید، قائد اعظم، علامہ اقبال اور ڈاکٹر قدیر اسکول نہیں جاتے۔۲ کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ کرپشن نے معاشرے میں مایوسی اور سماجی بے چینی کو جنم دیا ہےجس کا تدارک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

انجینئر پرویز صادق نے کہابڑی آبادی ہونا تب اہم ہوسکتا ہے اگر افرادی قوت ہنر مند ہو۔ڈپٹی اسپیکر شوریٰ کرنل (ر) مختار احمد بٹ، ڈاکٹر عامر طاسین، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، شیخ محمد عثمان دموہی ، رضوان احمد سمیت دیگر شرکاء نے بھی اظہار خیال کیا۔