
عائشہ بی
ہفتے کا دن تھا سارے بچے چاند دیکھنے کے لیے چھت پر گئے۔ جیسے ہی چاند نظر آگیا تو سارے بچے خوشی سے شور مچانے لگے۔۔ ابو ، امی،
دادی ! جلدی اوپر آ جائیں اور چاند دیکھیں۔ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے ۔ امی (ماریہ) نےپوچھا کہ پیارے بچوں!کل کون کون روزہ رکھےگامناہل توپچھلے دو سال سے روزے رکھ رہی تھی ؟ عثمان نے کہا ۔۔ امی کل پہلا روزہ ہے اور میں روزہ رکھوں گا۔میری روزہ کشائی ہوگی نا۔ مناہل نے کہا ہاں جیسے میری ہوئی تھی، ویسے ہی کل عثمان کی روزہ کشائی ضرور ہوگی ۔ بڑا مزہ ائے گا۔۔کیوں امی؟ امی نے کہا : پیارے بچوں ! اگر روزہ رکھنا ہے تو جلدی عشا پڑھ کر سونے کی تیاری کرنا ! جو اچھے بچوں کی طرح وقت پر اٹھ کر سحری کرے گا وہی روزہ بھی رکھے گا ۔ عثمان نے کہا : امی میں ضرور جلدی اٹھ کر سحری کروں گا تاکہ روزہ رکھ سکوں ان شاءاللہ ! امی نے سحری کے وقت سب بچوں کو جگا دیا ۔ سب سے پہلے عثمان اٹھ بیٹھا، مناہل اٹھی اور کہا :
"آیا ہے رمضان آیا ہے رمضان جاگ اٹھا ایمان
اللہ کی ہے شان آیا ہے رمضان آیا ہے رمضان۔"
سحری کرتے وقت ابو نے کہا : جو بچہ نماز نہیں پڑھے گا ان کا روزہ بھی نہیں ہو گااورروزہ نماز کے بغیر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اذان کی آواز سنتے ہی بچوں نے وضو کیا، عثمان اور عزیر اور اپنے ابو کے ساتھ مسجد جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ بچوں کا جذبہ دیکھ کر ماں باپ بہت خوش ہوئے اور شاباشی دی۔ مسجد جا کر نماز ادا کی ۔مناہل نے امی اور دادی کے ساتھ گھر پر نماز ادا کی ۔ اس کے بعد انہوں نے قرآن کی تلاوت بھی کی ۔
دوپہر کو عصر سے پہلےعثمان کےدوست بھی کھیلنےکےلیے پہنچ گئے کہ جب انہیں پتا چلا کہ عثمان روزہ رکھا ہے تو باتوں باتوں میں کہنے لگے عثمان تم نے روزہ کیوں رکھ لیا ہے ؟ ابھی روزے ہم پر فرض نہیں ہیں۔ تم روزہ توڑ دو۔۔۔! اور ہمارے ساتھ باہر چل کر پارٹی کر لو ! ہم کسی کو نہیں بتائیں گے ! اور کوئی نہیں دیکھے گے ! عثمان نے کہا : پیارے دوستوں مجھے غلط بات نہیں سکھائیں ۔ روزہ توڑنا گناہ ہے۔ چپکےسے تو پانی کا ایک خطرہ بھی نہیں پی سکتے۔ " کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور ہم سب کو ہمیشہ دیکھ رہےہوتے ہیں"۔ میرے پیارے دوستوں میرا روزہ خراب مت کرو ! بہت مہربانی ہوگی۔۔۔ چاہو توکل آپ لوگ بھی ضرور روزہ رکھ لینا۔۔۔ ہاں۔۔ آج میرے ساتھ روزہ کھولنا۔۔۔
ادھر امی نے عثمان کی روزہ کشائی کی اطلاع اس کے ننھیال میں دے دی تھی اوردادی کےساتھ مل کر افطارکی تیاری کررہی تھیں۔عصر کی نماز پڑھ کر اسکےنانا ، نانی ، خالہ، ماموں ، ممانی اور ان کے بچے ارتضیٰ ، مرتضیٰ اور زیان خوشی خوشی گفٹ لےکرعثمان کے گھر پہنچ گئے ۔ عثمان ، عزیر اور مناہل بہت خوش ہوئے ۔ نانا نانی اور دادی نے تو عثمان کو خوب دعائیں دیں۔ سب نے پیار کیا تحفے دیے۔پھوپھیوں نےپھولوں کا ہار پہنایا۔ افطاری کرنے سے پہلے سب مل کر دعاؤں میں مصروف رہے۔ پھر سب مل کر روزہ افطار کیا ۔ اس کے بعد چھوٹے بچوں زیان اور عزیر نے کہا : اب اگلے سال ہم بھی روزہ رکھیں گے ۔ ہماری بھی روزہ کشائی ہوگی۔ ان کی امی نے کہا ان شاءاللہ۔۔۔۔ آ پ دونوں بھی "روزہ رکھ لینا اگلے سال۔۔" عزیر اور زیان نے کہا ان شاءاللہ ضرور۔














