
ضیاء الرحمن غیور
گاوٗں کا نوجوان حفیظ میٹرک پا س کرچکا تو اس کے چچا نےجوساتھ والےگاؤں میں رہتا تھا،بھتیجےکوقریبی شہرلےگیااوراپنےایک جاننے والے کے ذریعے اسے جج کے پاس
چپراسی لگوادیا جو دفتر کے کام بھی کرتا تھا ۔جج نےخوش ہوکراسےاپنا کلرک بنالیا ۔خوش لباس حفیظ جلد اپنےگاؤں کاہیروبن گیا ۔
وہ ہرایک کاکام کروا دیتا تھا ۔وہ پیسے نہیں لیتا تھا لیکن گاؤں والے جو کسی قابل ہوتے تھے ، وہ اسے کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے ۔سب خوش تھےلیکن گاؤں کا زمنیدار جو بہت مغرور تھا ۔اسے گاؤں میں کسی کی عزت ہونا اچھی نہیں لگتی تھی ۔ اس غریب نوجوان سے خداواسطہ کا بیر ہوگیا ۔اسے اوراس کے گھر والوں کوپریشان کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا تھا ۔
جج نے اسے ہوشیار رہنےکاکہا،اتفاقا ًایک جھگڑے میں گاؤں کا ایک آدمی مرگیا ۔قاتل فرارہوگیا۔زمیندارنےاس واقعہ میں ملوث لوگوں کوڈرادھمکا کران کی جھوٹی گواہی پر حفیظ کوگرفتار کروادیا اوراس کے خلاف مقدمہ دائر ہوگیا ۔اس کے گھر والے روتے پیٹتے جج کے پاس گیے۔جج نے ان سے ہمدردی کی لیکن اس نے کہا مقدمہ دائر ہوگیا ہے ، میں اب کچھ نہیں کر سکتا ۔زمیندار نے گاؤں والوں کو حفیظ کی کسی بھی مدد سے روک دیا ۔
حفیظ کے گھر والےاس ظلم پرخاموش تھےاوراللہ سےگڑگڑا کردعائیں کررہےتھے۔زمیندار بہت خوش تھا کہ یہ لڑکا بڑا ہیرو بن رہا تھا۔دیکھو کیسے چال چلی سیدھا جیل میں گیا ۔ اب پھانسی پر چڑھے گا ۔سانپ بھی مرگیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی ۔آج بہت دیر ہوگئی زمیندار کی زمینوں کو پانی دینےوالا اب تک نہیں آیا تھا ،شام ڈھل رہی تھی ۔ زمیندار نے اپنا سفید قیمتی گھوڑ ا لیا اور زمینوں پر پہنچ گیا جلدی جلدی اس نے نالے کھولے اور زمین پر پانی چھوڑدیا ۔
ایک دوگھنٹےتو یہاں رکنا تھا ،اس نےزمین میں ایک اونچاٹیلہ تھا۔وہ ٹیلے پربیٹھےادھرادھراپنی زمین کی فصلوں کودیکھ رہا تھا اورخوش ہورہا تھا۔اسی مستی میں اسےخیال نہیں رہا ۔ اس ٹیلے کرگرد اوپر تک پانی چڑھ آیا ۔ اس ٹیلے میں ایک کالا سانپ رہتا تھا ۔ وہ بھی پانی میں پھنس گیا ۔ جب تک زمیندار نے حرکت نہیں کی تھی وہ سانپ جو کافی بڑا تھا خاموش رہا لیکن جیسےاس نے حرکت کی سانپ نے زور دار پھنکار ماری ۔
ڈر کے مارے وہ ٹیلے کی بلندی سے کھیت میں چھلانگ لگانا چاہتا تھا ۔ سانپ اس کی ٹانگ سے لپٹ گیا اورڈس لیا ۔ زمیندار کو کچھ نہیں سوجھا تو اس نے سانپ کی گردن کو پکڑ لیا طاقت ور سانپ تھا ۔ زورلگا کر اس کی کلائی توڑ دی ۔زمیندار بے ہوش ہوکر گر گیا ۔ لوگ جب زمیندار کو تلاش کرتے آےٗ تو انہوں نے دیکھا ایک کالاسانپ اس کے سینے پر بیٹھا ہے اورزمیندار اس کے زہر سے سیاہ پڑچکا تھا ۔














