ماحول کا سدھار

عطیہ جمال

"دادی جان آپ کے دور کے ماحول اور ہمارے اس دور کے ماحول میں آپ کو کیا فرق لگتا ہے؟" 10 سالہ ثنا نےدادی جان سےسوال کیا "میرا مطلب ہےجب آپ بچی ہوں گی

کیسا ماحول تھا؟"

" بیٹا آپ نے بڑا اچھا سوال کیا ماحول یا انوائرمنٹ سےمراد آپ کے اور ہمارے ارد گرد کی آب و ہوا،طرز رہائش تہذیب اور اس سےتعلق رکھنے والی تمام چیزیں ہیں۔ ہمارے دور میں ماحول سادہ آب و ہوا ستھری ہوتی تھی۔."

" دادی جان میری بات سنیں نا!"دادی کی بات کےدرمیان میں ثنا بول اٹھی۔

" ہاں بیٹایہی بات بتارہی ہوں کہ اس دور میں تعمیراتی مقاصدکےلیےلوگوں نےدرختوں اورجنگلوں کو کاٹ کاٹ کر جنگلی حیات اورجنگلوں کارقبہ کم کر ڈالا ہے۔زمین کا حسن برباد کر دیا ہے جبکہ ہمارے دور میں جنگل اگانے پر توجہ دی جاتی تھی جس کی بدولت ماحول پرسکون، خوشگوار اور ہوا صاف رہتی تھی۔ میری رائے یہ ہے کہ ثنا تم اپنے گھر میں چھوٹی سی کیاری بنا لو اور اس میں رات کی رانی،بیلا اور چمبیلی لگاؤ ۔ جب تم خوشگوار ہوا میں سانس لو گی تو رات کو بہت پرسکون نیند آئے گی۔ جہاں کچی زمین نہ ہو وہاں گملوں کا استعمال کرو۔ ہمارے دور میں یہ ڈربے نما کبوتروں کے گھر جیسے گھر نہیں ہوتے تھے۔ ہمارے وقت میں چھوٹے بڑے ہر طرح کے گھر ہوتے تھے مگر ہر جگہ کھلی جگہ ضرور ہوتی تھی جیسے صحن یا برآمدہ۔ درمیان میں درخت ضرور ہوا کرتے تھے جو ارد گرد کی ہوا کو صاف کرتے، چھاؤں اور سایہ فراہم کرتے اور گرم ماحول کو ٹھنڈا کر تے جس کی وجہ سے گرمی کم ہوتی۔ ہمارے دور میں بے شمار خوبیاں تھیں۔ صفائی بھی بہت تھی۔ گلی محلوں میں گٹر نہیں ابلتے تھے۔ شام کے وقت بچے گلیوں میں پانی چھڑک کر خوب کھیلتے تھے۔ یہ بتاؤ کہ تم اتنے سوال کیوں کر رہی ہو۔۔۔ کیا بات ہے؟"

" دادی میرے اسکول میں ایک تحریری مقابلہ ہے۔اس کاعنوان ہے کہ ہم اپنےماحول کو کس طرح بہتر بناسکتےہیں۔اسی لیےمیں معلومات جمع کر رہی ہوں، بس کچھ اور باتیں بتا دیں۔."

" ہمیں تو پودے لگانے کا بہت شوق تھا، جیب خرچ ملتےہی گملےلےکرآجاتے۔بیلا اوررات کی رانی میرے پسندیدہ پھول ہیں۔ ہم محنت اورمشقت کےعادی تھے۔ہم پیدل اسکول جاتے اور وہاں بھی پودے لگا رکھتے تھے جن کا خیال رکھتے اور پانی دیا کرتے تھے۔ تمہارے پاس آج کل نلکوں میں ہوا ہی آتی ہے ،پانی نہیں۔  ہمارے دور میں ہاتھ سے چلنے والے نل ہوا کرتے تھے، زمینی پانی جب چاہتے حاصل کرتے۔'

" اب برسات کے بارے میں بتائیں."

" ارے واہ وہ تو بہت خوبصورت موسم ہوتا تھا۔بڑےلوگ پکوان پکاتے،ہم جھولا جھولا کرتے،درختوں پرگرمیوں میں آم ٹھنڈے کرکےکھاتےتھے۔ برسات میں مچھروں سےبچاؤ کے لیے جالیاں استعمال کرتے۔ عید بقرعید بھی بہت خوبصورت تہوار تھے۔ اس دور میں بس دو تین جوڑے ہی ہوا کرتے، اس سے ہم خوش ہو جاتے تھے۔

بیٹا ماحول کو صاف رکھنا انسان کا اپنا کام ہے۔ صاف نیت اور خلوص کے ساتھ انسانوں کے لیے مفید کام کرو تو ماحول خود بخود خوبصورت ہو جاتا ہے،مثلا راہ میں پڑا کچرا یا پتھر اٹھا کر راستے کو صاف کرنا، کسی کی مدد کرنا، جانوروں کا خیال رکھنا، اس جیسے دیگر امور انسان کے ماحول کو بہتر کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔"

" اچھا دادی۔۔۔۔ بہت بہت شکریہ!میں اب اپنامضمون مکمل کر لوں گی۔" ثنا نے خوشی خوشی کہا۔