"شیرو"

عرشمہ طارق

    "اماں جلدی کریں نا آخر کب گُلک توڑیں گی"بلال نے تیسری بار ماں سے کہا تو شازیہ کچن سمیٹ

کر ہاتھ پونچھتی باہر آگئی"بلال بیٹا تم بھی پیچھے ہی پڑجاتےہو،دیکھ بھی رہے ہو کہ میں کام کررہی ہوں۔"شازیہ نے الماری سے گُلک نکالتے ہوئے کہا "اماں میں دیکھنا چاہتا ہوں ہم نے جو قربانی کے پیسے جمع کئے ہیں، اس میں ایک اچھا سا شیرو آسکتا ہے یا نہیں"بلال نے تصور کی آنکھ سے شیرو کو دیکھتے ہوئے کہا "یہ شیرو کون ہے؟"شازیہ نے تجسس ظاہر کیا"میرے بکرے کا نام ہے"بلال نے شوق سے بتایا پچھلے سال بھی ہم نے قربانی نہیں کی تھی "بلال نے منہ بسورتے ہوئے کہا "بیٹا پچھلے سال ہمیں قرضہ اتارنا تھا اس لئے قربانی نہیں کی تھی " "تو اماں جس پر قرضہ ہوتا ہے وہ قربانی نہیں کرسکتا کیا؟"بلال نے حیرانی سے پوچھا" اگر کسی کی استطاعت نہیں ہے اور وہ قرض دار بھی ہے تو بہتر ہے پہلے قرضہ اتارے۔  اس لئے بیٹا اپنی زندگی میں ہی قرضہ اتارنے کی فکر کرنی چاہئے۔ ماشاءاللہ سے قرضہ اتارنے کےبعد ہم سب نے قربانی کے نام کے پیسے جمع کرنے شروع کردئے تھے اور اب ہم گُلک توڑیں گے"یہ کہہ کر شازیہ نے زمین پر مار کے گُلک توڑ دی۔

      اگلے ہی دن بلال ضد کرکے اپنے بابا کے ساتھ منڈی گیا اور اپنی پسند کا بکرا خریدا ۔پورےمحلےمیں شورمچ گیا "بلال کا شیرو آگیا بلال کا شیرو آگیا" گلی میں دو تین بکرے اور آگئے تھے۔ اب تو ہر وقت مقابلہ رہتا کہ کس کا بکرا اچھا ہے، کس کا بکرا زیادہ تیز بھاگتا ہے،کس کا بکرا زیادہ چارہ کھاتا ہے ۔بچے اپنے بکروں کی ریس لگاتے گلی میں ہر وقت شور مچا رہتا۔

    " اماں شیرو چارہ نہیں کھارہا "بلال نےفکرمندی سےکہا "بیٹا جانوروں کو بھی آرام اورنیندکی ضرورت ہوتی ہے،انہیں پریشان نہیں کرنا چاہئے تمہیں یاد ہے نا دو سال پہلے تمہارے چاچو کا بکرا مرگیا تھا ، بچوں نے اسے اتنا تھکادیا تھا کہ بیچارہ بیمار ہوگیا  اور عید سے ایک دن پہلے مرگیا تم سب بچے کتنا روئے تھے اس لئے اپنے شیرو کا خیال رکھو خدا نخواستہ بیمار نہ ہوجائےزخمی نہ ہو جائے"شازیہ نے شیرو کو پیار کرتے ہوئے بیٹے کو سمجھایا۔

    " بلال کا شیرو مرگیا " گلی سےبہت ساری  آوازیں آرہی تھیں، سب افسردہ تھے۔  پریشان تھے،سب دوست اسےتسلیاں دے رہے تھے ۔بلال بھاگ کر اپنے کمرے میں چلاگیا اور  اتنا رویا کہ اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

   " بلال بلال بلال بیٹا آنکھیں کھولوکیاہواکیوں رورہےہوکوئی ڈراؤ نا خواب دیکھا ہےکیا "شازیہ نےاسےنیند سے بیدار کیا، وہ سوتے میں مسلسل روئے جارہا تھا "میرا شیرو  یہ کہہ کر بلال بھاگ کر شیرو کے پاس گیا ،اسے خوب پیار کیا اللہ کا شکر ادا کیا کہ یہ خواب تھااور آئندہ کبھی اسے تنگ نہ کرنے کا وعد کیا۔