
حبیبہ اسماعیل
مما ہمارا جانوراس بارآۓ گاتواب گھرکاکوئی فرد بھی کسی کو اس کی قیمت نہیں بتاۓ گا۔۔کیوں کیوں نہیں بتائیں بھائی؟؟حسین کا
چھوٹا بھائی حسن زور سے بولا اور مما بابا بھی سوچ میں پڑگئے۔۔
حسین کی اسلامیات کی ٹیچر مس روحینہ نے آج کےپریڈ میں پوری کلاس کو پہلے تو سورہ کوثر کی تلاوت ایک بچے کو کھڑا کر کے کروائی اور اس کے بعد اس کا ترجمعہ بھی کروایا اور پھر باری باری پوری کلاس کے بچوں سے پوچھا کے کس کس کے گھر میں قربانی ہوتی ہے؟؟ کچھ نے ہاتھ کھڑے کیے اور کچھ نے نہیں۔۔۔ خیراب مس نےکہا یہ بتائیں کہ قربانی کس چیزکی ہوتی ہے اورآپ سب بتائیں گے،میں سب سے پوچھوں گی ۔ اب بچوں کو بڑا مزہ بھی آرہا تھا کہ مس روحینہ اسی طرح اپنے پریڈ میں پڑھائی کو بڑے ہلکے پھلکے انداز میں اور پوری کلاس کو سوال جواب سے ہی ان کے سبق کو ایسے پڑھاتیں کہ وہ انہیں ازبر ہو جاتا اور اس کے ساتھ ہی کوئی قصہ بھی قرآن و حدیث و صحابہ کرام کے حوالے سے سنا کر اسے بہت دلچسپ بناکر بچوں کی معلومات میں بہترین اضافہ کرتیں۔
آج بھی قربانی کے حوالے سے سوال کیا جس کا جواب یہ ہی سب نے بتایا کہ گائےبکری اونٹ وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں ۔سب کے جواب سن کر مس نے شاباش دی کہ بالکل صیح جواب دیا ہے سب بچوں نے۔۔
پھر انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنےنفس کی قربانی دینی چاہیے،اس کےبعد ہی اللہ ہماری قربانی قبول کرتا ہے ۔ سارے بچے اب حیران کہ نفس کی قربانی کیا ہے ؟آپ کے میرے نفس کی قربانی بیٹا کہ ہم اپنی پسند اپنی کوئی غلط عادت اورکچھ بھی ایسا کام یا ایسی بات جو دوسرے کے لیے تکلیف یا دکھ کا باعث بنے لیکن اگر ہم اسے صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے چھوڑ دیں تو یہ ہمارے نفس کی قربانی ہوگی جو سب قربانیوں سے بڑی اور مشکل بھی ہے۔۔ اچھایہ بتائیں آپ سب کی پسندیدہ چیزیں یا عادتیں کیا ہیں؟تو کسی کو گانے سننا ، دیر تک رات کوجاگنا،سبزی سے چڑ ہونا ، جلدی غصہ آجانا، کسی کامذاق اڑانا وغیرہ اور بہت سی ایسی باتیں بچوں نے بتائیں۔۔ تو مس کہنے لگیں اگر آپ اپنی سب عادتیں اور پسند کی چیزیں صرف اس لیےچھوڑ دیں اورجوغلط بھی ہوں کہ اللہ ہم سے خوش ہوگا کہ اس بچے نے میری خاطر ہر چیز چھوڑ دی تو یہ ہوگی آپ کے نفس کی قربانی۔ جیسے سب سے پہلے قربانی کرنا ہے۔ مس کے خاموش ہوتے ہی شاید پوری کلاس بھی اور حسین بھی سوچنے لگا اپنے اور اپنے سب گھر والوں کی بھی تمام گزشتہ وہ عادتیں اور باتیں جو انہیں پسند تھیں وہ لوگ اپنے خاندان اور محلےوغیرہ کے لوگوں کے سامنے ہر موقع پہ اپنی بڑائی کے آگے دوسروں کو کمتر سمجھتے تھے اور اپنی چیزوں کی بڑھا چڑھا کرقیمتیں ا بتا کےکسی کو رشک و حسد اور کسی کو حسرت میں مبتلا کر کے بڑا خوش ہوتے اور آپس میں مل کر خوب مذاق بناتے ،اسی طرح قربانی کے جانور بھی جب لاتے اس کا حصہ حق داروں کو تو کبھی پہنچانے کا خیال نہ با با اور نہ اس کی مما کو آیا کہ جو غریب ہیں ان کے گھر پے گوشت زیادہ اور پہلے دینا ہے بلکہ جہاں سے گوشت سب سے اچھا آتا ان کے گھر بھی ان سے بڑھ کے بدلہ کر کے بھیجتے تاکہ پتا تو چلے کہ ہمارے گھر کتنے جانور آئے ہیں ، اس بات سے انہیں بہت خوشی ملتی تھی کہ سب میں ا ن کی واہ واہ ہو تو بچے تو یہ ہی سب شروع سے دیکھتے آرہے تھے۔
اللہ نے منیب صاحب کو دولت کی فراوانی بھی خوب دی تھی گھردنیا بھرکےسامان اورپرتعیش چیزوں سےسجا ہوا تھا، کھانے پینے غرض کسی چیز کی کمی نہ تھی لیکن یہ سب نعمتیں ان کے نفس کو اپنا غلام بنا رہی تھیں جس کا احساس حسین کو آج اچھی طرح ہو گیا ۔ وہ دل میں اللہ سے معافی مانگنے کے ساتھ اپنے گھر والوں کوبھی اس کا احساس دلانے کا ارادہ کر کے گھر آیا تھا ۔
اور اپنے سب گھر والوں کو نفس کی غلامی سےآزادی کااحساس اچھی طرح دلاکرمما باباسےاورچھوٹےبہن بھائیوں کوبھی قائل کرگیا کہ اب ہم اپنی قربانی کو گھمنڈ کر کے اور سب کے سامنے جانورکی قیمت سے اپنی قیمتی اورسنت ابراہیم کی قربانی کو اللہ کی ناراضی مول لے کر ضائع نہیں کریں گے بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنےنفس کی قربانی دےکرساری خرابیاں ختم کردیں گےجو سب سےبڑی قربانی ہوگی۔ اللہ کی نظر میں۔۔ ان شاء اللہ سب نے ایک ساتھ زور سے کہا ۔














