
ام حسن
علی صرف چارسال کا تھا مگراس کا دل بہت نرم تھا۔ عید سے پہلے وہ روز اپنی گائے کو چارہ دیتا، پیار کرتااور اسے دوست کہتا،مگر عید کی صبح جب اس کی پیاری گائے قربان ہو گئی،
علی کا دل بجھ سا گیا۔ وہ چپ چاپ کونے میں بیٹھا رہا، نہ کپڑے بدلے،نہ خوشی منائی۔
امی نے اس کی اداسی محسوس کی اور کہا،بیٹا، آؤ،تمہیں ایک اہم کام دینا ہے۔"انہوں نے گوشت میں سےاچھا سا حصہ نکالا اور علی کو بڑے بھائی کے ساتھ محلےکےغریب گھروں میں بانٹنے بھیجا۔
علی جس گھر گیا، وہاں خوشی اور شکرگزاری کےمناظر تھے۔ کسی ماں کی آنکھ نم تھی، کسی بچے کی ہنسی گونج رہی تھی۔ علی کا دل ہلکا ہونے لگا۔گھر آ کر اس نےامی سے کہا، "امی، اب سمجھ آیا کہ قربانی صرف جان دینے کا نام نہیں، کسی کی خوشی بننے کا نام ہے۔ میری گائے گئی لیکن کئی گھروں میں آج خوشی آئی ہے ۔"امی نے اسے گلے لگا لیا اور کہا قربانی کا گوشت کسی کی خوشی اور کسی کا حق ہوتا ہے۔ یہ علی کی پہلی عید تھی—اداسی سے سیکھنے اور خدمت سے خوشی کی طرف۔














