خون کے آنسو

 ضیاء الرحمن غیور

یہ پوش علاقہ تھا۔چند بچے عصر کی نماز پڑھ کر سائیکلوں پر نکلتے اورپارک میں آکر کچھ دیر سائیکل چلاتے اورتھک کربنچوں پر بیٹھ کر گپ شپ کرتے۔مغرب کا وقت ہوتا تو

اپنے گھروں کو واپس ہوجاتے یہ ان کا روز کامعمول تھا۔ان میں ایک لڑکا جاوید بہت سیدھا سادہ اورخاموش طبیعت تھا۔ خوش شکل اورخوش پوشاک تھا۔ دوسرے بچے بھی خوشحال گھرانے کے تھے۔ایک دن اچانک ایک لڑکے کا اضافہ ہوگیا۔ یہ سب دوست اسے نہیں پہچانتے تھے لیکن وہ بہت باتونی اورجھوٹا لگتا تھا۔پہلے تو سب کو جھوٹی سچی کہانیاں سناتا رہا، سب دوست اس سے جلد بے زار ہوگے اوراس کی باتوں سے عدم دلچسپی کا اظہار کرنے لگے۔جاویداس کی باتوں کو سمجھ نہیں سکا۔اس لیٗے اسے اس کی اداکاری زیادہ اورباتیں کم پر اسے بیزاری نہیں ہوئی۔ اسے دوستوں نے سمجھانے کی کوشش کی۔ یہ لڑکا اچھا نہیں ہے۔ اس سے دور رہو لیکن جاوید کو اس نے اس طرح اپنے شیشے میں اتارا تھا کہ وہ ٹس مس نہیں ہوا۔ وہ ہروقت جاوید کی تعریفیں اوردوسرے دوستوں کی برائی کرتا تھا۔
جاوید جانتا تھا اس کے سارے دوست اچھے ہیں لیکن اسے یہ بات بھی بری نہیں لگی۔اس کے دوست اپنے وقت پرچلےجاتےاورجاوید اس کے پاس بیٹھا رہتا۔تمام دوست پریشان ہوگئے۔ یہ لڑکا جاوید کے کیوں پیچھے پڑا ہوا ہے۔ایک دن جاوید نے دیکھا وہ اس کے دوستوں کاناپسندیدہ دوست سگریٹ پی رہا ہے، وہ بلا کی اداکاری کررہا تھا۔ وہ جب دھواں چھوڑتا تو وہ مرغولوں کی طرح اوپر اٹھتے تھے۔اس نے نہایت پراسرا طریقہ سے کہا جاوید تمہیں کچھ نظرآرہا ہے۔ مجھے ان مرغولوں میں پریاں اڑتی نظر آرہی ہیں۔جاوید نے بہت غور کیا لیکن اسے کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ پھر وہ چونک کربولا، جب تم سگریٹ پی کرمرغولے نکالوگے۔ تو تمہیں بھی پریاں نظر آئیں گی۔ پھر اس نے جاوید کو سگریٹ پلائی، اسے بہت کھانسی آئی اور وہ لڑکا جاوید کو بے وقوف بناتارہا،ایک دن خاموشی سے اسے نشے والی سگریٹ پلادی سگریٹ کا وہ عادی ہوہی گیا تھا۔ نشے کے سگریٹ اسے دوسری دنیا میں لے گیا۔جاوید کو بہت اچھالگا۔اب وہ روز پینے لگا۔ گھر والے پریشان تھے۔یہ جاوید کوکیا ہوگیا ہے۔ روزبروز اس کی حالت بگڑتی جارہی تھی۔اس کے والدین نے اس کے ساتھیوں کو بلایا اوران سے کہا کہ یہ دیکھواس کی کیا حالت ہوگئی ہے۔
ان سب نے کہا ہم دوستوں کے درمیان ایک لڑکا شامل ہوگیا تھا۔اس نے ہم سب کو اپنی باتوں سےبےوقوف بنانےکی کوشش کی لیکن ہم اس کےچکرمیں نہیں آئےوہجاوید سے ہماری برائی اوراس کی خوب تعریفیں کرتا ہے۔ آپ کا یہ بچہ بہت سیدھا سادہ تھا۔ ہم نے اس سے کہا اس سے دوستی مت کرو یہ اچھا لڑکا نہیں مگر جاوید نے اس کی دوستی نہیں چھوڑی، وہ اب جاوید کو سگریٹ پلارہا ہے۔جاوید کے والد پارک میں گئے تو وہ لڑکا جاوید کے والد کو دیکھ کرفرار ہوگیا اورپھراسے کسی نے نہیں دیکھا۔جاوید جیسا ہونہار بچہ نشے کاعادی بن گیا تھا اور دوستوں نے بھی ماں باپ کو نہیں بتلایا اورماں باپ نے بھی تحقیق نہیں کی کہ ان کا بچہ کیوں دیر سے گھر آرہا ہے۔جاوید کی حالت روز بروز خراب ہورہی تھی اسے نشہ لے کرنہ دو وہ بہت چیختا چلاتا تھا۔ مجھے نشہ چاہیے۔آپ نے مجھے اس گندے لڑکے سے کیوں نہیں بچایا؟ جس نے مجھے یہ عادت ڈال دی ہے۔اس کا ہسپتالوں میں علاج کروایا۔کوئی افاقہ نہیں ہوا۔وہاں بھی اسے نشہ مل جاتا تھا۔جاوید سے کھانا نہیں کھایا جاتا تھا۔ وہ مہینوں ہوگئے تھے۔ وہ ہڈیو ں کا پنجر بن گیا تھا۔ اس کے بہن بھایؤں کو نشیٗ کا بھائی یا بہن کہا جاتا تھا۔
ماں باپ کوکو ئی دوسرا راستہ سو ج نہیں رہا تھا،جب اچھے برے کی سوچ مٹ جائےتوہ نشہ کی مدافعت کوئی کیسےکرسکتا ہے۔اس سےنفرت کرےبھی تو وہ اس کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔وہ ماں کوروتے ہوئے دیکھتا تو اس کا چہرہ پکڑ کرکہتا ماں میں تیرا مجرم ہوں توماں میں نشے میں پگھل رہا ہوں اور میرے خون کے آنسو تیری آنکھوں سے بہہ رہے ہیں۔پہلے تونے مجھے دودہ پلاکر زندگی دی۔ اب مجھے زہر کھلاکرموت دے دے۔اب میں کسی کے قابل نہیں رہا۔ہر ایک مجھے نفرت سے دیکھتا ہے۔ایک دن اچانک وہ گھر سے غایٗب ہوگیا۔بڑے ڈھونڈنے کے بعد ایک ویران جگہ پر اسے پڑا پایا۔ وہ آخری سانسیں لے رہا تھا۔ ماں باپ گھر لے آئے اورماں باپ اوردوست احباب رشتے داروں کے ہا تھوں تدفین ہوئی۔ امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ لالچ اورخود غرضی نے لاکھوں لوگوں کو اپنا شکار بنالیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بہترین حل پیش کیا ہے۔