ننھی سی ارسلہ نے روزہ رکھا

عائشہ بی

ارسلہ نور بہت پیاری خوبصورت بچی ہے ۔اس کی دو پیاری پیاری بہنیں بھی ہیں ۔ زویا اور رفحہ۔۔۔۔ رفحہ سب سے چھوٹی ہے اور سب کی لاڈلی، تھوڑی

نخرے والی بچی ہے ،وہ روتی بہت ہے لیکن ارسلہ بہت سمجھدار بچی ہے، وہ چھوٹی منی بہن رفحہ کو چپ کرانے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اکثر تینوں بہنیں مل جل کر کھلونوں سے کھیلتی رہتی ہیں۔۔۔ ارسلہ اور رفحہ دونوں کو کچن سیٹ بہت پسند ہے اور وہ ہر وقت گھر والوں کو کبھی کھانا بناکر کبھی چائے بنا کر پیش کرتی ہیں۔۔۔ زویا ڈاکٹر سیٹ اور میک اپ سیٹ سے کھیلتی کبھی علاج کرتی کبھی میک اپ تینوں بچیوں کو سب بہت پیار کرتے ہیں۔

جیسے ہی مضان المبارک شروع ہوا تو ارسلہ نے سب کو روزہ رکھتے دیکھا تو اپنی امی سے ضد کرنے لگی کہ امی میں بھی روزہ رکھوں گی لیکن ابھی وہ بہت چھوٹی ہے ،اسی وجہ سےاس کی امی چھوٹی ہونے کے وجہ سے اسے ٹال رہی تھیں ،وہ دادی سے کہنے لگی مجھے بھی روزہ رکھنا ہے۔ دادی نے بھی کیا بیٹا ابھی نہیں اگلے سال ۔ان شاءاللہ۔

ارسلہ بولی دادی جان امی بھی مجھ کو کہتی ہیں" اگلے سال...... اگلے سال۔۔۔۔مجھے روزہ رکھنا ہے ،پلیز دادی۔۔ ایک دن ارسلہ سحری پر اٹھ گئی اور سب کے ساتھ سحری کر لی۔ امی نے کہا ارسلہ سحری کرلی ہے تو پھرکل کی طرح بارہ بجے اپنا روزہ کھول لینا ۔۔۔چڑی روزہ ( یعنی پریکٹس کے لیے آدھا روزہ) ابھی چھوٹی ہو پورا روزہ رکھنا مشکل ہوگا۔۔۔آج کل گرمی بھی ہے۔۔

ارسلہ کہنے لگی امی پلیز دادی پلیز آج روزہ رکھنے دیں ،میری روزہ کشائی کردی۔ نا۔۔! امی نے کہا بیٹا نماز پڑھنی ہوگی کہ کسی سے لڑائی نہیں کرنی ہے ،بھوک پیاس برداشت کرنا ہوگی۔ ارسلہ نے کہا کہ امی میں ایسا ہی کروں گی ۔ اسی طرح ارسلہ نے روزہ رکھ لیا سارا دن کھیلنے کے ساتھ سنی یا دادی کے ساتھ نماز بھی پڑھی اور کسی کو تنگ نہیں کیا جبکہ بھوک پیاس بھی برداشت کی۔۔ الحمدللہ

اب تو گھر میں سب لوگ خوشی خوشی ارسلہ کی روزہ کشائی کی تیاری کرنے لگے۔ امی اس کی پسند کے نگٹس نوڈلز اور فرائز بنانے لگ گئیں۔ سب سے زیادہ خوشی دادا، دادی کو ہورہی تھی ۔انہوں نے ارسلہ کے لیے نیا جوڑا اور پھولوں کا ہار منگوا لیا۔۔۔ باقی تمام گھر والے چاچو اور بابا نے بھی اس کے لیےگفٹ منگوا لیا۔۔۔ یہ سب دیکھ کر زویا نے کہا میں مجھے بھی روزہ رکھنا ہے اور میری بھی روزہ کشائی ہوگی۔۔۔۔ میں بھی ہار پہنوں گی۔۔۔۔سب لوگ مجھے بھی گفٹ دیں گے۔ ۔۔۔جب ارسلہ کے پھوپھا پھپی کو پتہ چلا تو وہ حیران ہو گئے کہ "ارسلہ نے روزہ رکھ لیا " وہ تو خوشی کے مارے تحفہ اور پھولوں کے ہار لے کر پہنچ گئے۔۔۔ ارسلہ بے حد خوش ہو رہی تھی۔

ارسلہ اور زویا مل کر محلے میں سارےدوستوں کو بھی دعوت دی۔۔۔ جب محلے میں پتاچلا کہ ارسلہ نےروزہ رکھ لیا تو محلے والوں نے بہت تعریف کی اور ارسلہ کو پیار کیا اور شاباشی دی۔۔۔ پڑوسی خالہ کہہ رہی تھی کہ ہائے اللہ جی " اتنی چھوٹی سی بچی نے روزہ رکھ لیا ہے۔ " شاباش۔۔۔مجھے تو حیرت ہو رہی ہے لیکن " یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ بچوں کو کم عمر میں روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے ۔۔۔ یہاں تو کچھ بڑے بڑے بھی روزہ نہیں رکھتےہیں۔بچوں کو اسی طرح بچپن میں روزے کے لیے تربیت کرنا بہت ضروری ہے۔۔۔الحمدللہ۔۔

ارسلہ نے روزہ رکھ کر پانچ وقت کے نماز بھی اپنی امی کے ساتھ ادا کی اور دو چھوٹی بہنیں بھی نماز کے لیے کھڑی ہو جاتی تھی۔۔ مغرب سے پہلے امی نے سب بچوں کو بٹھا کر بتایا ہے کہ پیارے بچو۔۔۔ "روزہ ڈھال ہے " ہمیں تمام برائیوں سے بچانے کی بہترین ڈھال روزہ ہے ۔۔۔ آخر میں دعا کروائی گئی۔۔۔۔ اس طرح ارسلہ کی روزہ کشائی بہترین طریقے سے منائی گئی۔۔۔بحان اللہ