
عائشہ بی
رمضان المبارک کا مہینہ تربیت کا بہترین مہینہ ہے۔ بہت سارے بچے بھی
خوشی خوشی روزے رکھتے ہیں۔ روزے رکھنےسے بچوں میں صبر و برداشت اور نیکی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس سے بچوں کی بہترین کردار سازی اور عبادت کرنے کی روح بیدار ہوتی ہے ،رمضان المبارک میں قرآن پاک نازل کیا گیا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو قرآن اور سنت کے مطابق اس مہینے کو گزارنے کی تربیت دیں تو بچوں کی شخصیت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا اور مسلمانوں پر روزے فرض کیے گئے ہیں ۔ اللہ پاک نے اس مہینے میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھادیاہے اور گناہوں کی سزا میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔
بچوں کی تربیت کے لیے
روزے کی عملی تربیت
ضروری ہے بہت چھوٹے بچوں کو ایک دم مکمل روزے کا پابند نہ بنائیں بلکہ پہلے انہیں آدھا روزہ یا چند گھنٹے بھوکا رہنے کی عادت ڈالی جائے جائے،اگر کوئی بچہ روزہ کھنا چاہے توضرور رکھے۔ انہیں روزے کا مقصد سمجھائیں کہ روزہ صرف بھوک برداشت کرنا نہیں بلکہ تمام برائیوں سے بچنا بھی ہوگا۔
سحری اور افطاری میں بچوں کو ضرور شامل کریں تاکہ ان میں شوق پیدا ہو۔
نماز اور قرآن کی تلاوت کی ترغیب دیں۔ بچوں کو تراویح میں ضرور ساتھ لے جائیں۔
روزانہ چند آیات کی تلاوت اور آسان ترجمہ سمجھائیں۔
گھر میں مختصر دینی نشست رکھیں۔
بچوں کے لیے اخلاقی تربیت ضروری ہے تاکہ بچےسچ بولنے، غصہ نہ کرنے اور جھوٹ سے بچنے کی کوشش کریں۔ بچوں کو سکھائیں کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ زبان اور آنکھ کا بھی روزہ ہے۔ بچوں کو اللہ کے راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالیں ۔
صدقہ اور ہمدردی کا جذبہ
بچوں کو اپنی جیب خرچ سے کچھ رقم صدقہ دینے کی ترغیب دیں۔
بچوں کو مستحق افراد کی مدد میں شامل کریں تاکہ ان کے دل میں رحم اور ہمدردی پیدا ہو۔
بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں، اگر والدین خود نماز، صبر اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں گے تو بچے خود بخود اپنائیں گے۔رمضان المبارک بچوں کے دل میں اللہ کی محبت، نظم و ضبط، صبر اور شکر کا جذبہ پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں منصوبہ بندی کے ساتھ گزارا جائے تو یہ بچوں کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔
اللہ پاک ہم سب اس رمضان المبارک میں اپنے بچوں کی بہترین تربیت بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔














