
اسلام آباد(ویب ڈیسک)مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ تاریخ ساز ملک گیر
ہڑتال حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف ریفرنڈم ہے،حکومت نے متنازع ٹیکسز واپس نہ لیے تو غیرمعینہ مدت کے لیے ملک کی دکانیں اور صنعتیں بند کردیں گے۔
ان خیالات کا اظہار مرکزی تنظیم تاجران کے صدر نے کامیاب ہڑتال کے موقع پرمیلوڈی مارکیٹ میں تاجرنمائندوں ملک ظہیر،کامران عباسی،حبیب اﷲ زاہد،شیخ سلیم،مہر اﷲ داد،شہزاد شبیر،خواجہ خلیل سالار،راجہ فیاض گل،اظہر اقبال،قاضی عظیم ،اشفاق عباسی،آفتاب عباسی،سردار ظہیر،ضیاء احمد راجہ،ملک صفت،عمران بخاری،اور دیگر تاجر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف لاکھوں دوکانوں اور ہزاروں صنعتوں کی چابیاں ڈی چوک میں حکمرانوں کے حوالے کریں گے، معاشی خودمختاری کے بغیر ملک کی سلامتی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا،ہماری ہڑتال پر امن ھے اور پر امن رہے گی،احتجاج ہمارا حق ھے،،حکومتی دباؤ اور دھمکیاں تاجروں کو خوفزدہ نہیں کر سکتیں، حکومت معاشی ٹیم تبدیل کریں ،آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک کے ملازمین کی ٹیم ملک کی معیشت کو تباہ کرنے در پے ہے۔
کاشف چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کو ایک بار پھرتاجروں کے حقیقی نمائندوں سے مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں ۔کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجر برادری نے معیشت کے تحفظ کی خاطر بے مثال اتحاد اور یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے حکومتی معاشی پالیسیوں ہوشر با ٹیکسوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ریفرنڈم کر دیا ،
انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں پیش کی گئیں مختلف شرائط جن کے تحت ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا وسیع نظام، ٹیکس افسران کے تفتیشی اختیارات میں اضافہ، انکم ٹیکس کا پیچیدہ نظام، ٹیکسوں کی غیرحقیقی شرحیں ، 50ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی وصولی کی شرط اور دیگر ناقابل عمل شرائط ہیں۔
۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کو پاکستانی قوم کی گردن پر مسلط کردیا گیا ہے۔ ،ہم وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مذاکرات کر نے کو تیار ہیں۔














