تحریک انصاف کےرہنماعلیم خان کا 15 فروری تک جسمانی ریمانڈ منظور

 

لاہور: احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے زیر حراست سینئر رہنما عبدالعلیم خان کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر 15 فروری تک ریمانڈ

منظورکرلیا۔

واضح رہے کہ علیم خان کواحتساب عدالت میں پیشی کے موقع پرآمدن سے زائد اثاثے بنانے کے کیس میں حراست میں لےلیا گیا تھا جس کے فوراً بعد انہوں نے صوبائی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔

نیب نےآج جمعرات کو انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا،علیم خان کی پیشی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اس سلسلے میں عدالت کے 3 کلومیٹر کے اطراف کے علاقے کو کنٹینرز اور خار دار تاروں سے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا، سیل شدہ علاقے میں 3 کالج، 5سکول اور فاؤنٹین ہاوس بھی موجود ہے۔

احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے کیس کی سماعت کی، علیم خان کی جانب سےا ن کے وکلا امجد پرویز اور اظہر صدیق جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ عبدالعلیم خان نے آف شور کمپنی بنائی اور بیرون ملک سے بھی ان کو رقم ملتی رہی جو ان کے والدین کے پاس آتی تھی۔

نیب وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ایک پرائز بانڈ نکلا جسے ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن جو پیسے باہر سے آئے اس کے متعلق یہ جواب نہیں دے سکے لہٰذا ہم انہیں نہیں مانتے انہوں نے وزارت کے دوران یہ اثاثے بنائے۔

نیب وکیل کا کہنا تھا کہ علیم خان کے اثاثوں میں ایک دم بہت اضافہ ہوا جس کے متعلق وہ جوابات نہیں دے پائے اور عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔