
کراچی:آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن کے دیگر الزامات میں نیب کے ہاتھوں گرفتار سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کو بھی کچھ ریلیف مل
گیا۔ مقامی احتساب عدالت نے سراج درانی کو نیب کی حراست سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔نیب کے پراسیکیوٹر نے ایک بار پھر سراج درانی کا تفتیشی ریمانڈ دینے کی استدعا کی تھی۔پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی تفتیش میں تعاون نہیں کررہے ہیں، ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی جائے، ہوسکتا ہے یہ آخری دفعہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع ہو۔تاہم عدالت نے نیب کی استدعا مسترد کردی۔
اس موقع پرحکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے درجنوں کارکن بھی عدالت کے باہر موجود تھے جنہوں نے اسپیکر سندھ اسمبلی کے حق میں نعرے لگائے۔یاد رہے کہ رواں سال 20 فروری کو نیب کراچی نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ برس جولائی میں نیب نےسراج درانی کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات پر انکوائری کی منظوری دی تھی۔
درانی پر 352 غیر قانونی تقرریوں کا بھی الزام ہے،تھا جبکہ ان کے خلاف تیسرا الزام ایم پی اے ہاسٹل اور سندھ اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے مخصوص فنڈ میں خورد برد سمیت ان منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرریوں سے متعلق ہے۔














