
اسلام آباد(ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمٰن نے اے پی سی کی تاریخ تبدیل کرنے سے انکارکردیا،ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور عوامی
نیشنل پارٹی کے وفد نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔
مسلم لیگ ن کے نمائندوں کا کہنا تھاکہ 26 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کےدوران اپوزیشن کی جانب سے تحریک التواء پر بحث ہو گی،اس لئے اے پی سی 30 جون کو بلائی جائے۔ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی مسلم لیگ ن کے مؤقف کی تائید کی لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے موقف اپنایا کہ تمام اراکین کو دعوت نامے ارسال کردیئے گئے اب تاریخ تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اے پی سی 26 جون کو صبح 11 بجے ہی ہو گی۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے اپوزیشن کو ایک بارپھرمشترکہ طور پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز پیش کردی۔
ذرائع کےمطابق مولانا فضل الرحمان نے یہ تجویز اپوزیشن قیادت سے حالیہ ملاقاتوں کے دوران پیش کی، مولانا فضل الرحمان نے تجویزدی کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے ارکان سے استعفے جمع کرلیں، مولانا فضل الرحمان کے مطابق اپوزیشن ارکان سے استعفے لے کر حکومت پر دبائوڈالاجاسکتاہے۔
استعفوں کے آپشن کوآخری ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے،اپوزیشن جماعتوں نے فضل الرحمان کوپارٹیوں میں مشاورت کی یقین دہانی کرا دی۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی اے پی سی میں استعفوں کی تجویزپربھی غورکیاجائےگا۔














