
کوئٹہ (ویب ڈیسک )جے یوآئی کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے حکومت کو اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے اکتوبر میں
اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کااعلان کردیا ،
کوئٹہ میں جمعیت کے زیراہتمام ملین مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفور حیدری ،مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد ،بلوچستان کے امیر مولاناعبدالواسع نے بھی خطاب کیا۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ 25جولائی کو بدترین دھاندلی کے ذریعے جعلی اور نااہل حکمرانوں کو جبری طورپر عوام پرمسلط کردیاگیاتمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ نئے انتخابات کرائے جائیں،ایک طرف کمر توڑ مہنگائی ہے تو دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار ہے، 50 ہزار روپے کی خریداری پر بھی شناختی کارڈ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نے کہاکہ آج کوئٹہ میں بلوچستان کی تاریخ کے سب سے بڑے کامیاب اورفقید المثال اجتماع وملین مارچ پر جمعیت بلوچستان کے کارکنوں،اہل کوئٹہ اور اہل بلوچستان کو سلام پیش کرتاہوں ،پاکستان میں جعلی اور کٹ پتلی حکومت قابل قبول نہیں ہے ،ایک ایسی حکومت جو پاکستان کے نظریاتی شناخت کیلئے خطرہ ہو ،
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایک ایسی حکومت جو پاکستان کے مسلمانوں کے عقیدے ،دلوں کی آواز ،ان کے عقیدے کے احساسات کیلئے خطرہ ہو ،ہم واضح کرناچاہتے ہیں کہ ہم ایسی قوتوں ،بیرونی ایجنٹوں ،عالمی قوتوں کے نمائندوں اور جعلی اور مسلط کردہ حکمرانوں کے خلاف طبل جنگ بجاچکے ہیں۔
،انہوں نے کہاکہ ملک کو دائو پر لگایاگیاہے یہ ملک اس وقت خطرے میں ہے ،ہم پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں ہمارا ادارے سے جھگڑا نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں سے اختلاف ہوتاہے ،انہوں نے فورسز پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک کو پرامن بنانے کیلئے قوم کی آواز کااحترام کرناہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میں واضح کرناچاہتاہوں کہ یہ ہمارا آخری ملین مارچ ہیں اگلاپڑائو اسلام آباد میں ہوگا،انہوں نے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اگست میں استعفیٰ دے تو مارچ سے بچ جائے گی، اگر اگست میں استعفیٰ نہ دیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔




































