مقبوضہ کشمیر،عمران خان کے مہاتیر،اردوان سے رابطے

اسلام آباد(ویب ڈیسک )پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بھارتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئےبھائی

ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ہے۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ملائیشیا  کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے رابطے کئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نےمقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے سے متعلق  بھارت کے صدارتی آرڈیننس کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔دفترخارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا اور کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا جبکہ بھارت کے اس یک طرفہ فیصلے اور اقدام سے کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی، ایسے اقدامات کشمیریوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سیکرٹری خارجہ کی جانب سے بھارتی ہائی کمشنر کوطلب کرکے احتجاج کیا گیا ہے۔وزیر اعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پیر کو اپنے ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد کو ٹیلی فون  کیا  اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں حالیہ تبدیلیوں سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیلی کا بھارتی اعلان سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کا یہ غیر قانونی اقدام خطے کے امن و سلامتی کو تباہ کردے گا۔انہوں نے کہا  بھارتی اقدام ایٹمی صلاحیت کے حامل ہمسایوں کے درمیان تعلقات مزید خراب کرے گا۔ مہاتیر محمد نے کہا کہ ملائیشیا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے اور اس صورتحال سے باخبر رہے گا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران  خان نے ترک صدر اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور  مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔عمران خان نے کہا مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے،بھارتی حکومت  کایہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ترک صدرنے مقبوضہ کشمیرکی  بگڑتی ہوئی  صورتحال پراظہارتشویش کرتے ہوئے  وزیراعظم عمران خان کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی  کہ  ترکی کشمیرکے حوالے سے پاکستان  کے موقف کی حمایت جاری رکھے گا۔