
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر پر بھارتی اقدامات سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ پاک بھارت
روایتی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ ردعمل کے جواب میں بھارت آزاد کشمیر پر مزید حملے کرسکتا ہے ۔ اگر جنگ ہوئی تو کسی کو فتح نہیں ہوگی ، خون کے آخری قطرے تک یہ جنگ لڑیں گے ۔ بھارتی غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کو ہر عالمی فورم پر اٹھائیں گے ، کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر لڑیں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےعمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس کی اہمیت کا پوری طرح پتہ نہیں، یہ سیشن صرف قوم نہیں،پوری دنیا ، کشمیری دیکھ رہے ہیں ۔ اپوزیشن سے درخواست کرتے ہیں اگر ڈسٹرب کر نا چاہتے ہیں تو میں بیٹھ جاتا ہوں ۔انہوں نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ رواں برس جون میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں انڈیا کا رویہ دیکھ کر احساس ہو گیا تھا کہ وہ ہماری امن کی کوششوں کو غلط سمجھ رہے ہیں۔ اسے ہماری کمزوری سمجھ رہے ہیں، اسلئے ہم نے مزید بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔’بشکیک میں اندازہ ہوگیا تھا کہ انڈیا کو ہم سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس حوالے سے مجھے جو شبہ تھا وہ کل سامنے آ گیا۔ہمارا مقابلہ نسل پرست نظریے سے ہے،یہ ان کا بنیادی نظریہ ہے جو آر ایس ایس کے نظریے پر مبنی ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیں گے، یہ صرف ہندوؤں کا ملک ہو گا۔ مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ اپنے ملک کے آئین، اپنی سپریم کورٹ، جموں و کشمیر کی عدالتِ عالیہ کے فیصلوں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی 17 قراردادوں اور شملہ معاہدے کیخلاف جا کر کیا ہے۔انڈین حکومت کشمیر کی آبادیاتی شکل تبدیل کرنا چاہتی ہے جو جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کیخلاف ہے، اسے جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انڈیا کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے۔مودی حکومت نے اپنے نظریے کیلئے اپنے آئین، قوانین اور تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔اس فیصلے کے نتیجے میں کشمیری مزاحمت مزید شدت پکڑے گی اور ہم سب کو سمجھنا ہے کہ اب یہ مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ انڈین حکومت جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے خیال پر عمل پیرا ہیں۔ وہ کشمیریوں کو طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کرے گی اور جب وہ ایسا کرے گی تو ردعمل آئے گا۔ان کا کہنا تھا میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ پھر پلوامہ کی طرز کا واقعہ ہو گا اور انڈیا پھر پاکستان پر الزام دھرے گا کہ پاکستان سے دہشتگرد آئے جبکہ اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا اگر ہم آخری قطرے تک لڑیں گے تو یہ ایک ایسی جنگ ہو گی جس کو کوئی نہیں جیت پائے گا، جو کبھی ختم نہیں ہو گی اور اس میں سب ہاریں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا وہ نیوکلیئر بلیک میل نہیں کر رہے بلکہ عام فہم بات کر رہے ہیں۔ پاکستان انڈیا کے اس اقدام کو عالی سطح پر اٹھائے گا۔ ہم ہر فورم میں جائیں گے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی کریمینل کورٹ جائیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مسئلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا مودی حکومت مکمل طورپر آر ایس ایس کے نظریے پر چل رہی ہے ۔ بھارتی اقدامات سے ایک اور پلوامہ کا خدشہ ہے۔ تشدد بڑھنے پر جو رد عمل آئے گا اس کا الزام پاکستان پر آئے گا ،مقبوضہ کشمیر میں مذہبی فسادات کا خدشہ ہے۔دو راستے ہیں، پہلا بہادر شاہ ظفر اور دوسرا راستہ ٹیپو سلطان کا ہے، ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں یا سلطان ٹیپو کی طرح خون کے آخری قطرے تک لڑیں ۔ نریندر مودی کی جانب سے کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنانے کی کوشش ان کے نسل پرستانہ رویے کا مظہر ہے۔ انڈیا نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے پاس دو آپشنز ہیں، جھک جائیں یا ڈٹ جائیں، کشمیر کےمعاملے پرڈٹنا ہوگا،آج مودی نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ،اس سے پہلے کہ مودی ہماری شہ رگ کاٹے ،ہم اس کے ہاتھ کاٹ دیں ۔ شہباز شریف نے کہا آ ج ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں،ہمارے پاس دو راستے ہیں ڈٹ جائیں یا جھک جائیں ،ہمیں کشمیر کیلئے ڈٹنا ہوگا کیونکہ پلوں سے پانی بہہ گیا ہے،بھارت کشمیر میں ظلم کے پہاڑ ڈھانے میں آخری حد تک چلاگیا ،کشمیرکے معاملے پر سعودی عرب سےکوئی رد عمل نہیں آیا، کیا یہ تنہائی نہیں ہے؟ وزیراعظم کو مشورہ دوں گا تاریخ پر بھروسہ کریں ،لیڈرشپ کا تقاضایہ ہےکھڑےہوں ،قوم کوبتائیں ہم ایک ہیں،بھرپورمقابلہ کرینگے،ہم فلسطین ہیں اورنہ ہی خطے میں اسرائیل بننے دیں گے،ہوش کےناخن لیں،سچ بولناشروع کریں توہماری تمام بیماریاں دورہوجائیں گی،کیا ضرورت تھی بھارت کوسکیورٹی کونسل میں غیرمستقل سیٹ کیلئےپاکستان نےووٹ دیا،مودی سرکار کا منشور تھا 35 اے کو ختم کردے، حکومت نےاس حوالےسےکیا تیاری کی؟ہم چاہتے ہیں حکومت اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھے،بی جے پی پہلی بار بھارت میں اقتدار میں نہیں آئی،قوموں کولیڈرشپ منجدھارسےنکالتی ہے،لیڈرشپ کا تقاضایہ ہے کھڑے ہوں اور بتائیں ہم ایک ہیں ، بھرپور مقابلہ کرینگے،22 کروڑ پاکستانیوں کی یہ آواز ہے کہ ہم کشمیریوں کیساتھ ہیں۔وزیراعظم کہہ رہے تھے مودی سرکارنےاپوزیشن کودیوار سے لگا دیا ہےآپ نے تو دیوار میں چن دیاہے،کشمیر میں مودی کو کرارا جواب دینے کیلئے جو بھی کرنا پڑے وہ کریں،ہم عہد کرتے ہیں کشمیریوں کیساتھ آخری حد تک جائینگے اورساتھ کھڑے ہونگے۔شہباز شریف کی تقریرکے جواب میں وزیراعظم نے کہااپوزیشن لیڈرنےبہت اچھی تقریرکی، امریکہ سے یکطرفہ نہیں اپنے نظرئیے کے مطابق تعلقات چاہتے ہیں، ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں افغان مسئلہ فوجی طاقت سے حل نہیں ہوسکتا،آج امریکہ بھی مان رہا ہے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں، اس مسئلے کو ہر فورم پر اُٹھائیں گے،اپوزیشن لیڈر بتائیں ایسا کون سا اقدام ہے جو ہم نے نہیں اُٹھایا،کونسی چیز ہے جو ہم نے نہیں کی،گزشتہ پانچ سال ن لیگ کی حکومت رہی تو ن لیگ نے کشمیریوں کیلئے کیا کیاتھا ؟شہباز شریف بتائیں کیا بھارت پر حملہ کردیں؟ پانچ سال تک ن لیگ کی حکومت تھی کیا اس وقت کشمیریوں پر ظلم نہیں ہورہا تھا ، اس وقت آپ نہیں کیا کیا ؟وزیراعظم کے سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا میں نے تو نہیں کہاکہ بھارت پر حملہ کردیں،عمران خان کو میری بات سمجھ نہیں آئی تو میراقصورنہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قلم کی ایک جنبش پر کشمیریوں کو ان کے اپنے ہی گھر میں اقلیت میں بدل دیا۔ کشمیر میں کلسٹر بموں سے حملہ، ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی، انٹرنیٹ اور مواصلاحات کے نظام کو معطل کرنا بھارت کے نظریہ سیکولر کے منافی ہے۔ ہم کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور بھارتی عوام کو بھی نہیں کرنا چاہے۔ پاکستان نے ’گجرات کے قصائی‘ نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے پر خوش آمدید کہا اورانہیں تسلیم کیا جو ہماری بڑی غلطی تھی کیونکہ مودی شدت پسند اور انتہا پسندہیں، ان کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے بھارتی فیصلے کو کشمیر، اقوام متحدہ، عالمی قوانین، جمہوریت، قانون، کشمیری مسلمانوں اور بھارتی نظریہ سیکولر پر حملہ قرار دیا۔انہوں نے کہا آرٹیکل 370 دراصل جواہر لعل نہرو، موہن داس کرم چند گاندھی اور اٹل بہاری واجپائی پر بھی حملہ ہے اور گجرات میں مسلمانوں کے قصائی نے پورے خطے کو آگ کے دہانے پر لا کھڑ اکیا۔ بھارت شملہ معاہدہ کے مخالف جاکر دوطرفہ مذاکرات کے تمام دروازے بند کررہا ہے۔مودی آگ سے کھیل رہاہے ، جہاں کشمیریوں کاپسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہائیں گے۔ہم نے ماضی میں بہت سے مواقع ضائع کیے اب جبکہ بہت کچھ داؤ پر لگ گیا تو اب ہمیں دانشمندانہ ردعمل اختیار کرنا چاہے۔ او آئی سی میں وزرا خارجہ کی سطح کا خصوصی اجلاس بلا کر معاملہ اٹھانا چاہیے تاکہ ہم دنیا کو واضح پیغام دے سکیں کہ ہمارے جزوی اختلافات ایک طرف لیکن مسئلہ کشمیر پر پوری دنیا کے مسلمان ایک ہیں۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم و ستم کیخلاف اپنا کردار ادا کرے۔بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آج بھی آپ اپنا ایوان مکمل کرنے میں ناکام رہے اور انتہائی اہم مسئلے کے باوجود شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناء اللہ و دیگر اراکین موجود نہیں ہیں۔انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عدم موجودگی پر بھی تنقید کی اور ڈاکٹر شیریں مزاری کو وزیر خارجہ بنانے کی تجویز دیدی۔چیئرمین پیپلزپارٹی کے خطاب کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس آج دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردیاگیا۔














