
اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیری کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے
فیصلے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جبکہ 15اگست کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیردفاع پرویز خٹک، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف، نیول چیف سمیت ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی آئی ایس پی آر ، سیکرٹری فارن افیئرز اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں سول اور عسکری قیادت نے بھارت کے حوالے سے 5 اہم فیصلے کیے گئے۔وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق قومی سلامتی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کردیا جائےگا اور سفارتی تعلقات کو محدود کیا جائےگا۔
اعلامیے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ پاک،بھارت تعلقات پر نظرثانی کی جائےگی اور بھارت کےساتھ تمام دو طرفہ معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائےگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بھارت کےغیر قانونی اقدامات کو اقوام متحدہ کے سامنے اٹھایا جائے گا ۔قومی سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ یوم آزادی کو کشمیریوں کےساتھ یوم یکجہتی کشمیر منایا جائےگا اور مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے تمام سفارتی چینلز کو بھارتی ظالمانہ اور نسل پرستانہ رویے ، ان کے عزائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعظم نے پاک فوج کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کی۔














