مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم سے ہٹلر کی یاد تازہ ہوگئی،وزیراعظم

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی

اقدام کو تاریخی ”فاش غلطی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کشمیریوں کی مقامی تحریک آزادی مزید زور پکڑے گی، پاکستان اس ضمن میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور عالمی عدالت انصاف سمیت مختلف بین الاقوامی فورموں سے رجوع کرنے کے تمام آپشنز پر غور و خوض کر رہا ہے، بین الاقوامی برادری ابھرتی ہوئی صورتحال میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا بھارتی اقدام مفاد پر مبنی نہیں بلکہ ہندو نسل پرستی اور ہندوﺅں کی بالادستی کے نظریے کی بنیاد پر ہے۔

 وزیراعظم آفس میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی کے اقدامات سے ہٹلر کی یاد تازہ ہو گئی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاﺅس میں ملاقات اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کے بعد بھارت نے یہ اقدام کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کی جاری تحریک آزادی برسوں کے ظلم و ستم، جبر اور بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری عوام کے دل و دماغ جیتنے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمہ کے بعد صورتحال تیزی سے خراب ہو گی اور بھارت اپنے جبرو استبداد میں مزید اضافہ کرے گا جس کا سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے اور بھارت پاکستان کو موردالزام ٹھہرائے گا۔

وزیراعظم نے  کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال(ہندودہشت گرد تنظیم) آر ایس ایس کے نظریہ کی پیروی کا نتیجہ ہے جس کا مطلب ہندوﺅں کی بالادستی ہے، ان کا نظریہ ہے کہ ہندوستان صرف ہندوﺅں کا ہو گا اور وہاں ہندو راج ہو گا۔  پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے حوالہ سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور عالمی عدالت انصاف سمیت مختلف بین الاقوامی فورموں سے رجوع کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور و خوض کر رہا ہے، حکومت اس مسئلہ کو دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں بھی اٹھا رہی ہے تاکہ انہیں اس کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ”پوری دنیا منتظر ہے کہ جب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھایا جائے گا تو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا ہو گا؟، کیا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کا خیال ہے کہ بے پناہ عسکری قوت کے بل بوتے پر اہل کشمیر کی تحریک آزادی کا گلا گھونٹ لے گی؟، قوی امکانات ہیں کہ اس تحریک میں شدت آئے گی۔ یقینی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں اہل کشمیر کی نسل کشی کا بدترین مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا۔ اہم سوال ہے کہ آیا ایک مرتبہ پھر ہمیں بی جے پی حکومت کی شکل میں فاشزم دیکھنے کو ملے گا یا بین الاقوامی برادری اخلاقی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا راستہ روکے گی“۔