پھول سے چہرے

عید پر ہیں منتظر
وہ سارے پھول سے چہرے
جو گزرے ہیں
کرب سے اذیت سے
بھوک سے
پیاس کی شدت سے
جنہوں نے کھوے ہیں
وہ قیمتی رشتے
کہ جب وہ تھے
تو مسکراہٹیں چہروں پرکھلتی تھیں 
لہجے بھی کھنکھناتے تھے
پھولوں کی روش پر
جب دوڑا کرتے تھے
تو وہ سائے کی مانند
ہمراہ ہوتے تھے
قلقاریاں سننے کے لئے
گدگدایا کرتے تھے
وہ سارے پھول سے چہرے
کہ تنہایاں اب جن کا مقدر ہیں
بنے ہیں بےبسی کی تصویر
آؤ
آج ہم ان کے گرد
خوشیوں کا اک ہالہ بنائیں
آ ج ان کی آ نکھوں میں
امید جگائیں زندگی کی
آؤ آگے بڑھ کر
آ ج انہیں گلے لگائیں

 

لبنیٰ صدف