جوہی گڑیا

 

چھوٹی سی ہے میری بہنا

سب ہی اس کو جوہی کہنا

صورت اسکی پیاری پیاری

ہے وہ سب کی راج دلاری

انگ انگ میں ہے اسکے شرارت

دیکھ کے اسکو ہو جائے الفت

اک دن بابا نے یوں پکڑا

ہاتھ میں اسکے روٹی کا ٹکڑا

کوے اس ٹکڑے کی خاطر

ماریں ٹھونگیں اس کے سر پر

ٹھونگوں کی چوٹ سے ڈر کر

جوہی چڑھ گئی ایک درخت پر

درخت پر تھا کوؤں کا مسکن

کوے سارے دوڑ کے آئے

کائیں کائیں کا شور مچائیں

شور سے ڈر گئی جوہی گڑیا

گھبرا کر چھلانگ لگائی

چوٹ بھی بہت زور کی آئی

دائیں بائیں کوے بھی آئے

شور مچائیں شور مچائیں

بابا نے جو یہ سب دیکھا

ہاتھ سے لیکر روٹی کا ٹکڑا

دور بہت زور سے پھینکا

کوے سارے ٹکڑے پر لپکے

ایسے بچی جوہی کی جان

صدف کی بھی اس میں جان

 

لبنیٰ صدف