
مجاہد عالم ندوی/پٹنہ
چودہ (14) نومبر کو یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے،جسے بال دیوس اورچلڈرن ڈے بھی کہاجاتا ہے۔ یوم اطفال عالمی سطح پر بھی منایا جاتا ہے ۔ دنیا کے مختلف
ممالک میں مختلف تاریخوں کو مختلف انداز سے یہ دن منایا جاتا ہے ۔
اس دن کے منانے کا مقصد بچوں کا حوصلہ بڑھانا ہے، ان کی عزت افزائی اور ان کےحقوق کی پاسداری ہے ۔
یوم اطفال منانے کا مقصد بچوں میں تعلیم ، صحت ، تفریح اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعور وآگہی کو اجاگر کرتا ہے، تاکہ مستقبل میں یہ بچے ملک کے بہترین اور وفادار شہری ثابت ہو سکیں ۔
بچے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اگرانہیں مناسب تعلیم دی جائےاوران کی صحیح تربیت کی جائے تو اس کے نتیجے میں ایک اچھا اورخوشگوار معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان کا چھوٹا سا بچہ بھی قدرت کا عجب کرشمہ ہے، اس کی بھولی بھالی شخصیت میں کتنی کشش اورجاذبیت ہوتی ہے، اس کی معصوم ادائیں ، اس کی شرارتیں ،اس کا کھیل کود ،غرض اس کی کون سی ادا ہے جو دل کو لبھاتی اور کیف و سرور سے نہ بھر دیتی ہو ۔
پھرایک اور پہلو سے دیکھیےہمیں نہیں معلوم کہ قدرت نے کس بچے میں کتنی اور کس قسم کی صلاحیتیں رکھ دی ہیں اور آگے چل کر کیا خدمات یا کارنامے انجام دینے والا ہے، ہو سکتا ہےکہ آج ان معصوموں میں کوئی کسان اور تاجر ہو،کوئی انجنیئراور صنعت کار ہو، کوئی صحافی ہو، کوئی طبیب وحکیم ہو ، کوئی مدرس ہو،کوئی سائنس داں، کوئی فلسفی ہو اور کوئی ماہر سیاست اور مدبرومنتظم ہو، ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ خاندان ، قبیلہ ، قوم ، ملک اور نوع انسانی ان میں سے کس کے ذریعہ کتنا بڑا فائدہ پہنچےگا ، اتنی بڑی صلاحیتیں جس بچہ کےاندرچھپی ہوئی ہیں وہ اپنی پیدائش کے وقت سب سے زیادہ کمزور اور بےبس ہوتا ہے ۔
وہ اپنی نشوونما اور پرورش کے لیے جتنی توجہ ،شفقت اور محبت کا طالب ہے،کسی بھی خاندان کا بچہ اتنی توجہ اور محبت نہیں چاہتا ،ذرا سی بے احتیاطی سے اس کی زندگی ہی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ، اس کی ذہنی وفکری اور اخلاقی تربیت تو اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اورمشکل کام ہے، اس معاملے میں غلطی و کوتاہی اسےبالکل غلط رخ پرلےجا سکتی ہےاور اس کا وجود پورے سماج کے لیے عذاب بن سکتا ہے،اگر صحیح نہج پر اس کی تربیت ہوسکے تو وہ سماج کوامن و چین اور سکون سے بھرسکتا ہے ۔
تربیت مستقل ایک فن ہے، اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہےکہ اس کے ذریعہ تیار کردہ سانچے میں کسی کا ذہن و دماغ ڈھل جائے اورخاص طور پر اس کی اپنی اولاد کا اورخود اس کے زیرپرورش بچوں کا، تویقینی طورپر اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ ان کےایام طفولیت کوزیادہ اہمیت دے ۔
بچوں کے جسم وجان اور ان کی طبیعت ومزاج کوگندھی ہوئی مٹی سےتشبیہ دی جاتی ہےکہ کمہار اچھی طرح گندھی ہوئی مٹی کو جس طرح کےظروف کی شکل دینا چاہتا ہے،آسانی سے مطلوبہ شکل وصورت دے دیتا ہے ۔
بچوں کا اچھا یا براہونا اس بات پر منحصرہے کہ ان کی تعلیم و تربیت صحیح طرح سے ہوئی ہے یاغلط اندازسے ۔
صرف رسمی طورپر ایک دن یوم اطفال منا کراس عظیم ذمہ داری اور فرض کو کبھی پورا نہیں کیاجا سکتاہے،اس کے لیے ہردن کے چوبیس گھنٹے صرف کرنا پڑے گا،یوم اطفال کا پیغام یہ ہے کہ ہم عہد کریں کہ ہم اپنےبچے کی ذہنی و فکری تربیت کریں گے، ان کے لیے مناسب تعلیم کا نظم کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ جسمانی اور روحانی بالیدگی کی بھی فکر کریں گے ۔




















