
عصمت اسامہ
گزشتہ ماہ میری والدہ کی طبیعت ناساز تھی ،میں انہیں لے کر قریبی ہاسپٹل گئی۔ نرس نے امی جان کو ڈرپ لگائی تو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں اچانک شور سا
اٹھا ۔ صورت حال واضح نہیں تھی ،رش بہت زیادہ تھا میں ایک جانب سائیڈ پر کھڑی معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی، جن مریض خواتین کے ساتھ والد ،شوہر یا بھائی تھے ،وہ آگے ہوکر اپنی بہن ،بیٹی کو چیک کروا لیتے تھےجن خواتین کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھاانہیں پرچی بنوانے کے لئےانتظار کرنا پڑتا تھا۔
جس جانب سےشوراٹھاتھا۔میں نے دیکھا کہ اسٹریچر پر ایک بچی کو لایا جارہا تھا جو سفید یونیفارم میں ملبوس تھی،پندرہ سولہ سالہ یہ طالبہ مکمل بے سدھ تھی۔ میں نے دیکھا کہ میری بہن (جو مقامی گرلز کالج کی پرنسپل ہے )وہ اسٹریچرکےساتھ کھڑی تھی ،طالبہ کوبیڈ پرمنتقل کردیا گیا ،میری بہن وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو طالبہ کے بارے میں بتا رہی تھی ۔میڈیکل سٹاف طبی امداد دینے لگا تو میں نے پوچھا کہ اس بچی کو کیا ہوا ہے؟ بہن نے بتایا کہ وہ اپنے آفس میں تھی جب اطلاع ملی کہ ایک بچی کلاس میں بیہوش ہوگئی ہے۔اس نے بچی کو ہاسپٹل پہنچانے کے لئے ایمبولینس کو کال کی مگر وہ کہیں مصروف تھی ،اتنے میں بچی کے والد صاحب کو معلوم ہوا تو وہ بھاگے بھاگے آگئے۔ کہتے کہ میری مانو کو کیا ہوا ہے؟ میری مانو جلد ٹھیک ہوجاۓ گی ۔وہ خود ہاسپٹل سے اسٹریچر لے کے آگئے ،کالج کے ساتھ ایک گیٹ تھا جس کا لاک کھولنے والا گارڈ کہیں چلا گیا تھا ،وہ لوگوں سے پوچھتے ہوۓ اس گارڈ کو ڈھونڈ کر لاۓ ،خود اسٹریچر پر بیٹی کو ڈالا اور ہاسپٹل پہنچایا۔ پھر انہوں نے کالج کی پرنسپل سےپوچھا مانو کی طبیعت کی خرابی کے بارے میں اس کی والدہ کو فون تو نہیں کیا ؟ والدہ خود کینسر کی مریضہ ہیں انہیں کچھ نہ تایا جاۓ۔ پرنسپل نے یقین دہانی کروائی کہ والدہ کو نہیں بتایا گیا۔ طبی امداد کے بعد والد بچی کو گھر لے گئے۔ اس ساری بھاگ دوڑ میں شفقت پدری اتنی نمایاں تھی کہ ہم دونوں بہنوں کو اپنے والد صاحب مرحوم یاد آگئے ۔
زندگی کے ہر مرحلہ پر بیٹیوں کے ساتھ چٹان بن کے کھڑے ہوجاتے تھے۔ہمت بندھاتے۔ہماری تعلیم کےسارے مرحلے والد صاحب کی محنت سے مکمل ہوئے تھے ۔ احادیث کے مطابق والد جنت کا دروازہ ہے۔ والد کی رضامندی میں خدا کی رضامندی ہےاور والد کی ناراضی میں خدا کی ناراضی ہے۔




















