
تہران ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل )مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد
ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ سخت اور غیر معمولی شرائط بھی عائد کر دی گئی ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ صرف 15 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی اور ہر جہاز کو پیشگی ایرانی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اس نئے نظام کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اب حالات ماضی کی طرح معمول پر نہیں آئیں گے۔
ایران نے جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے اہم شرائط بھی سامنے رکھی ہیں، جن میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی دو ہفتوں کے اندر بحالی سرفہرست ہے، اس کے علاوہ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے باضابطہ تسلیم کیا جائے، بصورت دیگر وہ دوبارہ کشیدگی بڑھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے،مزید برآں ایران نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرے، جبکہ یورینیئم افزودگی سے متعلق معاہدے کی پاسداری جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز سے فیس وصولی بند کرنا ہوگی۔
ادھر لبنان کا معاملہ اس جنگ بندی میں ایک اہم تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ لبنان کو بھی معاہدے میں شامل کیا جائے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے نہ رکے تو وہ دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا اقدام کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ ہے





































