
ماہ نورشاہد
سلیولیس شرٹ پہننےمیں کیاحرج ہےبچی ہی توہے۔۔۔ابھی دوپٹہ کی ضرورت کہاں ہے؟چھوٹی تو ہے ابھی۔۔۔۔
اسکارف کیوں لےرہی ہو ابھی توچھوٹی ہو۔۔۔
یہ چند بےمقصد،بلا ضرورت اورتباہ کن الفاظ ہیں جن کی پکارہمیں تقریباً ہرگھر میں سنائی دیتی ہے۔۔۔
میں نے تباہ کن الفاظ جانتےہیں کیوں کہا؟کیونکہ یہی وہ الفاظ وحرکات ہیں جو ان معصوم کلیوں میں سےحیا کا تصور ختم کردیتےہیں۔پھرحجاب جیسی بنیادی چیزان کے لیے ایک غیر ضروری امربن کر رہ جاتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں بچپن ہی سے اپنی روح اور جسم کی حفاظت کا احساس دلا کرخود اپنی قدروقیمت کا اندازہ کروایا جائے۔۔۔
حیا اورحجاب دونوں ایک دوسرےکےلیےلازم و ملزوم ہیں ۔۔۔حیا روح کی جبکہ حجاب جسم کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔۔۔ان نازک آبگینوں کو ڈرادھمکا کر نہیں بلکہ حصول جنت اورابدی کامیابی کا شوق اجاگرکرکےاس طرف لایا جائے۔
ان کےننھے ذہنوں میں دین کےقاعدے و ضابطےکا بیج اس طرح ڈالا جا ئےجووقت کےساتھ بتدریج بڑھتارہےاور کیا،کیوں ،اگر اورمگرجیسےسوالات ان کے ذہن میں پیدانہ ہوں ۔۔۔
ان کے ذہن میں صرف اتنا ہوکہ یہ میرے رب کاحکم یہ ،یہ میرےرب کومحبوب ہے۔۔۔ان کوبتایا جائےکہ یہی توتمہارے لیےجنت میں جانے کی کنجی ہے۔نماز کی کنجی توبعد میں کام آئے گی۔ جنت میں داخلے کے لیے ہلےتوتمہے اس کنجی کی ضرورت پڑے گی۔۔۔ یہ نازک کلیاں اپنی مہک کوقصداً نہ چھپاٸیں بلکہ خوشی خوشی راضی بارضا خود کو اللّٰہ کے سامنے پیش کردیں۔۔۔
پھر جو لڑکیاں حجاب اورپردے کودنیاوی زندگی میں رکاوٹ کا سبب سمجھتی ہیں۔انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ تم اگر اس معاشرے میں غیرمعمولی ہو تو کیا ہوا؟ تمہارا رب تمہاری بہت قدرکرتا ہے۔۔۔تم اگر دنیا والوں کے لیے اجنبی ہوگئی ہو تو کیا ہوا؟ ایسے اجنبیوں کو تونبی کریمﷺ نے سلام کہا ہے۔۔۔
نبی کریمﷺ کا سلام تمہےزیادہ محبوب ہےیا وہ چند تعریفی کلمات جو کچھ لمحوں کی لذت اور پھر ابدی (آخرت کی) ذلت کا سبب بن سکتے ہیں؟ہم ہی ہیں جو ان آبگینوں کو ان کی اہمیت اور قدروقیمت سے روشناس نہیں کرواتے۔۔۔
ہم ہی ہیں جو اس مشکل مگر ابدی عزت و وقار والے راستے پر چل نکلنے والی لڑکیوں کو "غیر معمولی" بنا کر ایک طرف کردیتے ہیں اور انہیں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا کردیتے ہیں۔۔۔
ذرا نہیں پورا سوچئے
پہلا فرض ہمارا ہے




















