
ماہ نورشاہد
آپ کے خیال میں کس چیز کو بچانا زیادہ مشکل ہے؟جان ،ْایمان یا یہ دونوں ؟ آپ نےاصحاب کہف کا واقعہ سنا ہوگا اوران نوجوانوں کی آزماٸش کے لیول کا
اندازہ آپ کو ہوگا۔ انہیں اپنا ایمان اور اپنی جان دونوں کو بچانا تھا۔ انہیں اپنی روح و جسم دونوں کو ہلاک ہونے سےبچانا تھا۔انہیں اللّٰہ نے جان وایمان دونوں کی آزماٸش میں مبتلا کیااور کامیاب ہوئے اورکیا خوب کامیاب ہوئے۔۔۔۔
کیا ہماری آزماٸش کا لیول بھی ان کےجیسا ہے؟ اگر نہیں تو ہم کس جگہ کھڑے ہیں ؟
ہمارے لیے محض اپنا ایمان بچانامشکل کیوں ہوگیاہے؟ہمیں توبس ایمان بچانا ہے۔۔۔اصحاب کہف اپنی جان اورایمان کی حفاظت کے لیےایک نہیں دو غاروں میں پناہ گزین ہوئے تھے۔
انہوں نے اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے”اطاعت“ کےلیےغار میں پناہ لی تھی اوراس غار کے سرے پرتقویٰ کوپہرے داربنایا تھا ۔۔۔ ہمارا کام بھی یہی ہے ہمیں بھی ان اصحاب کی طرح اپنے نفس کوتابع کرنا ہوگا۔اطاعت کےغارمیں گوشہ نشین کرنا ہوگا جس کےسرے پرتقویٰ ، خوف خدا کا پہرا ہو۔۔۔ ایمان ،اطاعت اور تقویٰ تینوں ایک دوسرے کے لیےلازم وملزوم ہیں۔۔۔
جہاں اطاعت اورتقویٰ دونوں ہوگیں وہاں ایمان پوری آب وتاب کےساتھ ہوگا ۔۔۔لیکن جہاں ان میں سے ایک چیز بھی کم ہوئی وہیں دوسری چیزیں بھی متاثر ہوجاٸے گی۔۔۔
مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کو بچانے کے لیے اپنی جان کو قربان کردیتا ہے تو پھر کیوں ہمارا ایمان خطرے میں آجاتا ہے، جبکہ ہم تو جان کی آزماٸش میں مبتلا ہی نہیں ہیں۔۔۔ کیوں نا کام ہیں اپنے اوراپنے بچوں کے ایمان و افکار کو تباہی سے بچانے میں ؟وجہ تلاش کرنا اس سے بچنااور بچانے کا کام ہمارا ہے ۔۔۔





































