
ماہ نور شاہد
وہ اتنی نازک سی، کمزور سی چڑیا ہی توتھی بھلا کیسےوہ اس قدردہکتا الاٶ بجھا سکتی تھی۔۔۔ اس نازک اورناتواں وجود میں اتنی سکت ہی کہاں تھی۔۔
پھروہ کیاچیزتھی جو اسے اپنی تمام تر کمزوری اورناتوانی کے باوجود نتاٸج کی پروہ کئےبغیراپنی بھرپورسعی کرنے پرمجبورکرتی رہی۔۔؟ یہ پاسداری حکم اذان کی ایک شکل ہی تو تھی ۔ وہ ننھی سی جان اپنی سکت کےمطابق اپنا ذمہ نبھاتی رہی.یہ دیکھےبغیر کہ اسکا ہدف کس قدر مشکل ہے،وہ اپنا حصہ ڈالتی رہی اور حکم اذاں پورا کرتی رہی۔۔۔
حضرت ابراہیم علیہ کے اس واقعے میں چڑیا کا یقین،اعتماد اوربرائی کے خلاف جدوجہدکا جذبہ ہمارے لیےروشن قندیل ہے،خواہ حالات کتنےہی سنگین ہوں ہمیں اپنی سکت کے مطابق ہر اس برائی کےخلاف جو سامنےآجاٸے اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ صرف ہمارا حصہ ہماراعمل معنی رکھتا ہے نتیجہ ہمیشہ اللّٰہ ہاتھ میں رہا ہے ۔اللّٰہ توبس کوشش مانگتا ۔۔بھرپور کوشش۔۔۔۔۔اس واقعے میں ایک اور نکتہ جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ محض زبان کے ذریعے حکم اذاں پورا نہیں کرنا بلکہ قول کے ساتھ فعل بھی مطلوب ہے۔۔بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ”بات“ سے زیادہ ” ذات“ اہمیت رکھتی ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔۔الفاط اور انداز خواہ کتنے ہی خوبصورت ہوں اگرعمل آپ کی اس دعوت کا متضاد ہوگا تو آپ کی بات بے اثررہے گی۔۔۔
جو اذان حکم دیا مجھے اسے تو عمل میں اتار دے
دے تشنگی مجھے علم کی پھراسے عمل سے گزاردے
برائی، بےحیائی اوربےراہ روی اورفتنوں کی بھڑکتی ہوئی آگ محض ایک بندے کی کوشش اور جدو جہد سےسرد تونہیں ہوسکتی مگرآپ کا کرداراورحصہ آپ کا نام اور مقام امت وسط کےاس عظیم گروہ کی فہرست میں شامل کروادےگاجو امربالمعروف و نہی عن المنکر کا علمبردار ہے انشاء اللّٰہ۔۔۔
ایمان کے انتہائی کمزوردرجے سے نکل آٸیں ،برائی کوبرائی محض تصور نہیں کریں بلکہ اس کی روک تھام کے لیے جان مال کے ساتھ سردھڑ کی بازی لگا دیں کہ کوئی بھی خوف ہمیں نہ حضرت ابراہیم علیہ کی طرح حق گوئی سے روک سکےاور نہ ہی بے جا بہانے ہمیں اس طائرناتواں کی طرح بھرپور کوشش سے روک سکے ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔” مجھے ہے حکم اذاں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ“۔





































