
سماویہ وحید
مجیب اللہ کو دفن ہوئے آج 6 ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس کے سامان (جس میں ایک بیگ شامل تھا) کو جب کھولا گیا تو اس میں چند کپڑوں کے علاوہ
ایک ڈائری بھی تھی۔ اس کی ڈائری کو جب پڑھا گیا تو اس نے وادی کے تمام مجاہدین کے لیے اپنی زندگی کا آخری پیام لکھا ہوا تھا۔
"اے میری وادی کے ستاروں! خدا کی رحمت بہت وسیع ہے۔ خدا پر توکل ہی ہماری زندگی کی ضمانت ہے۔ آزادی کی قیمت ابدی بیداری ہے۔ میرے شیروں! اگر خدا تمھیں آزادی سے ہمکنار کرے تو اس آزادی کی قدر کرنا۔ اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کی قربانیوں کو یاد رکھنا۔ کبھی یہ نہ سوچنا کہ آزاد قومیں دوبارہ غلامی کی زنجیروں میں نہیں جکڑ سکتی۔ خدا سے ہر وقت سلامتی کی دعا کرتے رہنا اور مجھے امید ہے کہ جب تک آپ کے حوصلے بلند اور منزل کو پانے کی جستجو ہوگئی تو اس وقت تک خدا کی رضا سے کوئی بھی قوم آپ پر غلبہ حاصل نہیں کر سکے گئی۔ خدا سے دعا ہے کہ خدا! کبھی تمھاری گردنیں جھکنے نہ دے اور اگر تم آزادی کی فضا نہ پاسکو تو تمہاری آئندہ نسلیں اس لذت سے ہمکنار ہو۔ خدا تمھارا حامی و ناصر ہو۔"
یک دم زوردار دھماکہ ہونے سے اس کا کلیجہ منہ کو آگیا۔ بے اختیار اس کے لب سے انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوگیا۔ وہ اتنی شدت سے دور جا گرا تھا کہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ اس کا جسم ٹوٹ چکا ہے لیکن کچھ وقفے کے بعد وہ خود ہی اپنے پیروں پر کھڑا تھا۔ وہ ابھی کچھ ہی لمحے پہلے چھپ چھپا کر اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے کھانے کی تلاش میں نکلا تھا۔ لیکن اب وہ دیکھ رہا تھا کہ دھماکے کے شعلے دو گلیوں کو برباد کرچکے ہیں۔ جس میں اسکا گھر بھی شامل تھا۔ اس کے سر سے خون کا فوارہ جاری ہوچکا تھا، لیکن اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ غم سے نڈھال، سکتے میں آچکا تھا۔ اُسکی آنکھوں کھ سامنے اُس کے اہل و عیال جس میں اُس کی بوڑھی ماں اور باپ شامل تھا۔ وہ تقریبا 20 سالہ نوجوان تھا۔ وہ یتیم ہوچکا تھا۔ وہ شفیق باپ کے سائے سے محروم ہوچکا تھا۔ یوں تو دھماکے ہونا معمول کا حصہ تھا لیکن آج جو دھماکہ ہوا، اس کو کرچی کرچی کرگیا تھا کیونکہ آج وہ تنہا ہوچکا تھا۔ وہ اپنے والدین کی لاش تک نہیں دیکھ سکتا تھا۔
کچھ قدموں کی آہٹ اور آوازیں اُسے قریب سے محسوس ہوئی تو وہ ایک گھر کے شیڈ کے پاس تنگ گلی میں کھڑا چھپ گیا۔ بمشکل اندھیرے میں کوئی اسے دیکھ سکتا تھا، ہر طرف دھواں ہونے کی وجہ سے اس کی سانس رک رہی تھی۔ بھارتی درندے زور زور سے قہقہے مارتے ہوئے اس کے سامنے سے دھماکے کی جانب جا رہے تھے۔ جن میں سے ایک نے کہا کہ:
" آج تو کوئی بھی نہیں بچا ہوگا، اوپر تلے 10 گھروں کا خاتمہ تو آرام سےہو گیا ہے۔ آج کا ٹارگٹ ہمارا مکمل ہوگیا ہے۔ سر سے بہت داد ملے گی۔"اور اسکے ساتھ جاتے 4 اور فوجی زور زور سے ہنسنے لگے۔ قریب تھا کہ وہ غصے سے پھٹ کر ان پر ٹوٹ پڑتا لیکن اچانک اسے اپنے باپ کی طرح شفقت بھرا ہاتھ کندھے پر محسوس ہوا۔ وہ یک دم خوف میں آگیا۔ اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا: " بیٹا تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟ تم دیکھ رہے ہو کہ فوجی ہر طرف سے ہمارے شکار کے لیے کھڑے ہیں۔ تمھیں اپنے گھر لوٹ جانا چاہیے۔"
کافی دیر سے ضبط کیےگئے آنسو اُس کی آنکھوں سے یکایک سیلاب کی طرح رواں ہوگئے۔ جیسے کہ وہ کسی ایک کنارے کے ٹوٹنے کاانتظار کر رہے تھے۔ وہ بزرگ کے گلے لگ گیا، اور ہونکا بھرتے ہوئے کرب سے بولا:" میں یتیم ہو گیا ہوں دادا۔ میرا گھر جل گیا آج۔ میرا کوئی نہیں رہا۔"
بزرگ نھ اُس کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا: " تو کیا ہوا بیٹے!! سب نے ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہی ہے، اور تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہارے والدین شہید ہوئے ہیں۔ آج سے تم میری سرپرستی میں رہو گے۔ اپنا دل کمزور نہ کرو، اپنے حوصلے بلند رکھو۔ برائیوں سے لڑنا سیکھو، بزدل نہیں بہادر بنو، شہادت کی تمنا کرو۔ تم ہی جیسے جوان اس وادی کا کل سرمایہ ہے۔"
اُس کی آنکھوں میں چمک سی پیداہو گئی۔ گویا منزلِ آزادی اس کے قریب آ گئی ہو۔ وہ بزرگ کی بات سن کر بہت خوش تھا۔
"اڈے کے پیچھلی جانیب 12 افراد کھڑے ہوں گے۔ جن کی کمانڈ مجیب اللہ کرے گا اور سامنے کی جانب سے 15 افراد کھڑے ہوں گے، دائیں 8 اور بائیں جانب بھی 8 افراد ہوں گئے۔ جن کی کمانڈ میں خود کرونگا۔ اس کے علاوہ سب سے پہلے حملہ پیچھے کی جانب سے ہو گا اور آگے، دائیں، بائیں کے فوجی جھاڑیوں میں چھپے رہیں گے۔ پہلے وار کے بعد باقی دستے حملہ کریں گے۔" کمانڈر عثمان نے ہدایت دی۔
مجیب اللہ کی آنکھوں میں سالوں سے آزادی کی تمنا تھی۔ وہ اس آرزو کو پوراکرنا چاہتا تھا۔ لیکن مجاہد فورس کے پاس اتنی قوت نہیں تھی کہ وہ زیادہ اقدامات کر کے کافروں کے شکنجے سے اپنے مقصد کو کامیاب بنائے۔ جب وہ 20 سال کا ہوا تھا تو یتیم ہوگیا لیکن بزرگ احمد نے اس کی ہمت بندھائی اور اسے مجاہد فورس میں شامل کروادیا۔ کئی سالوں کی جدوجہد کرنے کے بعد آج وہ ایک بہادر نڈر، سخت جان، عقاب جیسی آنکھیں، شیر جیسے خونخوار جذبے کا حامل مجاہد بن چکا تھا۔ آج وہ تیسری بار بھارتیوں کے اڈے پر حملہ کر کے ان کی حوصلوں کو شکست دینے کا عزم لیے روانہ ہونے والا تھا۔
" میرے نوجوانوں، میرے شیروں، خدا کے غلاموں۔ وادی کی عزت و ناموس، میرے بہادر مجاہدو! آج کی رات پچھلی تمام راتوں سے زیادہ سخت ہے۔ پچھلے تمام حملے آج کے حملے کے مقابلے میں ایک کھیل کے سوا کچھ نہیں تھے۔ لیکن جو نوجوان اُن حملوں میں شہید ہوئے، انہوں نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اللہ سے ان کے درجات بلند ہونے کی ڈھیروں دعائیں۔ ہمارا مقصد واضح اور منزلیں اونچی ہیں۔ جدھر سوکھے کانٹوں،خون، اور شہادت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی جان سے بڑھ کر کشمیر کی آزادی زیادہ عزیز ہے کیونکہ غلام قومیں کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اس قوم کی عزت ہم مجاہدوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے حصے کی شمع جلانی ہے۔
ہمارے دل و دماغ میں یہ بات ایک کیل کی طرح جیسے کہ وہ ایک لکڑی میں مضبوطی کے ساتھ جم کر کھڑا ہوتا ہے۔ اس طرح اپنے اندر ٹھونک کر رکھنی ہے کہ ہماری منزلیں اونچی ہیں لیکن راستے پیروں کے نیچے ہیں۔ ان آزادی کی راہوں کو پانے کے لیے مشکلات بھوکے شیروں کی طرح ہم پر حملہ آور ہوں گی۔ اس لیے ہمارے حوصلے کبھی پست نہیں ہونے چاہئیں ۔ خدا سےثابت قدمی کی دعا کرتے رہیں اور ہر گولی چلنے سے پہلے اللہ کو یاد رکھیں۔ ان مشکلات میں خدا ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔"
کمانڈرعثمان کے اشارے پر مجیب اللہ نے روانہ ہونے سے پہلے تقریر کی اور سب نے ایک ہاتھ پر بیعت کی اور نعرہ تکبیر سے فضا گونج اٹھی۔ فضا آلودہ ہو چکی تھی، ہر جگہ لاشیں بکھری ہوئی تھیں، مجاہدوں کی بہ نسبت بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے میدان بھرا ہوا تھا۔ سورج کی ہلکی ہلکی روشنی پھیلنے کی وجہ سے میدان میں بکھری لاشوں کا معائنہ آسانی سے کیا جا سکتا تھا. شہید مجاہدوں کی فہرست میں مجیب اللہ کا نام سرفہرست تھا. اس کی شہادت کی خبر پوری مجاہد فورس میں پھیل چکی تھی. اس کی میت کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر چکا ہے.
اس کی آنکھوں میں آزادی حاصل کرنے کی جو تمنا تھی وہ پوری تو نہیں ہوئی تھی، مگر اس نے اپنی وادی کے شہیدوں کا بدلا لینے کے لیے بھرپور کوششیں کی تھی۔ اس کے چہرے سے نور ٹپکتا معلوم ہورہا تھا۔ وہ مجیب اللہ جو 20 سال کی عمر میں یتیم ہوا تھا۔ آج خود اپنے کشمیر کو یتیم کر گیا تھا، کیونکہ اس کے حوصلے بلند اور عزم پختہ تھے۔ جس کی وجہ سے مجاہدوں کا دل بہت غم زدہ تھا۔




















