
اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ دہشت گردی ہے۔ ان کے
مطابق افغان طالبان حکومت یا تو افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں سہولت کاری کر رہی ہے یا پھر ان عناصر سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریری یقین دہانی کرائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، بصورتِ دیگر دونوں ممالک کے تعلقات موجودہ سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے ایک قطرہ پانی پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں کسی بھی فریق کے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرنے کی کوئی شق موجود نہیں اور ثالثی عدالت کے فیصلے دونوں ممالک پر لازم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے ثالث اور سہولت کار دونوں کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں محسن نقوی نے تہران کے دو اہم دورے کیے جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ سیکیورٹی اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور چین اپنی سفارتی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات منا رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور تجارت، صنعت، تعلیم، آئی ٹی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران بزنس ٹو بزنس کانفرنس، تجارتی تعاون، زراعت، سائنس، آئی ٹی اور عوامی روابط کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایسے واقعات خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق فورمز پر آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے جبکہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو دہشت گردی قرار نہیں دے سکتا۔ پاکستان نے تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے پاکستان اور روس کے درمیان عالمی سلامتی، اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ سے متعلق مشاورت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے عالمی فورمز پر تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اگلا اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں چینی اقتصادی منصوبے بند نہیں ہوئے اور حکومت غیر ملکی شہریوں، خصوصاً چینی باشندوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی بے دخلی کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ بعض انفرادی واقعات کو عمومی رجحان قرار دینا درست نہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات مضبوط ہیں اور اگر کسی پاکستانی خاندان کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو سفارتی ذرائع سے معاملہ اٹھایا جائے گا۔




















