
عریشہ اقبال
دہائیوں سے ہوتا ہوا سفر کہیں روایات کی شکل میں نقش چھوڑ جاتا ہے اور کہیں دلوں میں محبت کا گھر تعمیر کر دیتا ہے، مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر گھر میں روشنی
اور روایات میں سچائی کا پہلو موجود نہ ہو تو کیا عکس میں خوبصورتی پیدا ہو سکتی ہے؟
ہرگز نہیں۔ بالکل اسی طرح کئی دہائیوں سے ایک محبت کی میراث میرے اور آپ کے نام کے ساتھ لگی ہوئی ہے، مگر اس میراث کو حاصل کرنے کا سامان ہر سال میسر آتا ہے، لیکن سبھی میں سے کچھ ہی کے حصے میں یہ میراث آتی ہے اور باقی محروم رہ جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟
آئیے جانتے ہیں۔ جب طلب سچی نہ ہو تو سب کچھ حاصل کر کے بھی کھو دیا جاتا ہے، کیونکہ مستقل رجوع اور اخلاص کی کمی نے عمل کو سست کر دیا ہوتا ہے۔
ذی الحجہ کے یہ دس دن میری اور آپ کی زندگی کو بندگی کا سلیقہ سکھانے کے لیے، اور اللہ کی محبت کے رنگ کو گہرا کرنے کے لیے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث لے کر اور ان کے نقشِ پا کی روشنی لیے ہمارے درمیان ایک بار پھر آ چکے ہیں۔ یہ ایام اور یہ ساعتیں صرف حج کے فرائض ادا کرنے والوں کے لیے مختص نہیں ہیں، بلکہ سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ جس جگہ اماں ہاجرہ سلام اللہ علیہا نے سعی کی، وہاں اس مقام کو مناسکِ حج میں شامل کرنے کی ضرورت کیا تھی؟
جس مقام پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ایڑیاں رگڑیں، وہاں سے پھوٹنے والا زم زم کا چشمہ آج تک فیض حاصل کرنے کا سبب کیوں بنا ہوا ہے؟
وہ دیواریں، جو "اللہ اکبر" کی صداؤں کا منظر پیش کر رہی ہیں، وہاں کیوں کسی امیر یا غریب کی تخصیص نہیں کی جا رہی؟
کسی غلام یا آزاد کا فرق نہیں پوچھا جا رہا؟
ان تمام سوالات کا ایک جواب ہے، اور وہ ہے: قربانی۔
آخر ایسا کیا راز ہے اس ایک لفظ "قربانی" میں کہ اتنے گہرے سوالوں کے جوابات اس ایک لفظ میں پوشیدہ ہیں؟
راز تو تب کھلتا ہے جب ہماری سوچ کا یہ رخ تبدیل ہو جائے کہ وہاں حج کے فرائض ادا کرنے والوں ہی کے لیے یہ ایام مختص ہیں اور انہی کی دعائیں قبولیت کا درجہ پا سکتی ہیں، جبکہ ہمیں اس نظر کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک حج وہاں اس خلیل کی یاد کو زندہ رکھنے اور اس کے عمل کی شمع کو فروزاں کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، اور وہی حج یہاں ہمارے کعبۂ دل میں قلبِ سلیم کو پیدا کرنے کی صورت میں ہونا چاہیے۔
ایک حج یہاں ہماری نظروں میں حیا کا احرام باندھ کر ہونا چاہیے، تاکہ اس کعبۂ دل کے گرد طواف ہو تو ہمارا وجود اس سوز اور اس ربِّ ذوالجلال کی کبریائی بیان کرتے ہوئے دھڑک رہا ہو۔ ہماری زبان سے جاری ہونے والی دعائیں اور تکبیرات ہمارے اعمال کو اسماعیل کے آدابِ فرزندی کی جانب موڑتی ہوئی محسوس ہوں۔
آئیے، اس عہد کی تجدید کریں اور اپنی زندگی میں کئی سوالات، جو ہمیں الجھا کر رکھتے ہیں، ان کا جواب قربانی کے اس خزانے میں تلاش کریں، جس کے موتی صرف وہاں موجود حاجی ہی نہیں بلکہ میں اور آپ بھی سمیٹ سکتے ہیں۔
اے ہمارے رب! ہم تیری بڑائی کا اعتراف کرتے ہیں اور تیری ہی طرف پلٹتے ہیں۔ تو ہمیں قلبِ سلیم عطا فرما، اور ہمارے لیے ہمارے نفس، مال اور خواہشات کو قربان کرنا سہل فرما دے، تاکہ ہمارا دل تیرا کعبہ اور ہمارا عمل تیرے خلیل جیسا ہو جائے، جس نے اپنا لختِ جگر تک تیری راہ میں پیش کر کے اپنی محبت کو ثابت کر دیا۔



































