
بنت خلیل / بہاولپور
جب کسی دینی محفل کی دعوت دی جاتی ہے تو اکثر جواب ملتا ہے جو کچھ وہاں بتایا جاتا ہے، وہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم ہے۔
تو کیا کسی عالمِ دین کو عالم بننے کے بعد علم حاصل کرنا چھوڑ دینا چاہیے؟
کیا علم کی کوئی حد ہے؟
اچھاتو آپ کا یہ کہنا ہے کہ فلاں باجی ہمیں ایک ہی آیت بار بار پڑھاتی ہیں، یا درس میں وہی باتیں بتاتی ہیں جو ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔۔
جھوٹ نہ بولو، غیبت نہ کرو، عبادات، اخلاقیات، اچھا طرزِ عمل، اسلامی تعلیمات۔۔۔ بس وہی پرانی باتیں۔
اچھا بہن! یہ بتائیے۔۔۔کیا چور کو نہیں پتا ہوتا کہ چوری گناہ ہے؟ کیا بے نمازی کو نہیں معلوم ہوتا کہ نماز فرض ہے؟
سب جانتے ہیں، پھر بھی انسان گناہ کرتا رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جان لینا کافی نہیں، عمل میں تبدیلی لانا اصل امتحان ہے۔شیطان انسان کو بہکاتا ہے، نفس کمزور پڑ جاتا ہے، اور انسان بھول جاتا ہے مگر جب بار بار نیکی کی ترغیب دی جائے، قرآن کی تعلیمات سے ضمیر کو جگایا جائے، تو آہستہ آہستہ دل بدلنا شروع ہو جاتا ہے اور برائیاں چھوٹنے لگتی ہیں۔
ویسے بھی قرآن کا یہ معجزہ ہے کہ جتنی بار بھی اس کا علم حاصل کرو، ہر بار کچھ نیا سیکھنے کو ضرور ملتا ہے۔ ہر بار زندگی کے حالات اور کیفیت کے مطابق وہ نئے انداز سے سمجھ آتا ہے، دل پر الگ اثر چھوڑتا ہے اور انسان کو اپنے رب کے مزید قریب کر دیتا ہے۔یہ دینی محفلیں، یہ نصیحتیں، یہ اچھی کتابیں۔۔ صرف معلومات نہیں دیتیں بلکہ ہماری روح کی خستہ دیواروں کے لیے سیمنٹ کا کام کرتی ہیں اور ہمارے ایمان کو مضبوط بناتی ہیں۔
اور یاد رکھیں، جماعت پر اللہ کی رحمت اور مدد ہوتی ہے۔
ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کا یہ فرمان بھی یاد رکھنا چاہیے کہ"یہ امت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اس میں نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے لوگ موجود رہیں گے"۔
تو کیوں نہ ہم بھی اُن لوگوں میں شامل ہو جائیں جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں کیونکہ اگر ہم نہیں کریں گے تو کوئی اور کر لے گا، مگر شاید ہم اس عظیم کارِ خیر کے اجر سے محروم رہ جائیں۔



































