
کراچی( نمائندہ رنگ نو) جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین نے کہا ہے کہ
تھیلیسیمیا ایک موذی، جان لیوا اور پیچیدہ مرض ہے جس کا علاج اس وقت پاکستان میں نہ سرکاری سطح پر ممکن ہے اور نہ ہی کسی نجی اسپتال میں مکمل طور پر دستیاب ہے، تاہم مستقبل میں جین تھراپی کے ذریعے اس بیماری کا مؤثر علاج ممکن ہوسکتا ہے۔
انہوں نے یہ بات انٹرنیشنل تھیلیسیمیا ڈے 2026 کے موقع پر جامعہ ہمدرد میں منعقدہ دو روزہ آگاہی پروگرام کے اختتام پر بدھ کے روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیمینار کی صدارت چانسلر جامعہ ہمدرد اور ہمدرد فاؤنڈیشن کی صدر محترمہ سعدیہ راشد (ہلال امتیاز) نے کی۔
آگاہی پروگرام کے پہلے روز سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے تعاون سے فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن میں بلڈ اسکریننگ اور بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور اسٹاف نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے اسکریننگ کرائی اور خون عطیہ کیا۔

وائس چانسلر ڈاکٹر عمران امین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں چند فلاحی ادارے تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے امید کی کرن بنے ہوئے ہیں، جن میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن کی چیئرپرسن اور فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کی ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث کی تھیلیسیمیا پر تحقیق "آئیروچیل" کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقی کام کو مزید وسعت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلانی ویلفیئر کے تعاون سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے ڈیٹا انسٹالیشن کا منصوبہ بھی جلد مکمل کیا جائے گا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے تھیلیسیمیا پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار بچے مائنر تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جبکہ ملک میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں تھیلیسیمیا کا تناسب آبادی کے لحاظ سے 5 سے 9 فیصد تک ہے۔
ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ تھیلیسیمیا کا مریض زندگی بھر موت اور حیات کی جنگ لڑتا رہتا ہے، جبکہ جن ممالک نے بروقت احتیاطی اقدامات کیے وہاں اس بیماری پر مؤثر قابو پالیا گیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں گزشتہ 18 برسوں کے دوران تھیلیسیمیا کا ایک بھی بچہ پیدا نہیں ہوا، جبکہ سعودی عرب میں اس بیماری کی شرح 19 فیصد سے کم ہوکر 3 فیصد رہ گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دورانِ حمل 14 ہفتوں کے اندرسی وی ایس ٹیسٹ کے ذریعے تھیلیسیمیا کی تشخیص ممکن ہے، اور اگر بچہ میجر تھیلیسیمیا کا شکار ہو تو شرعی اور قانونی طور پر حمل ضائع کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض سے بچاؤ کے لیے علما کرام، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور سماجی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، جبکہ ملک بھر کی 50 ہزار سے زائد مساجد میں جمعہ کے خطبات کے دوران آگاہی مہم بھی چلائی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے 2016 میں تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا قانون منظور کیا تھا، تاہم اس میں تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو “رضاکارانہ” قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس ٹیسٹ کو لازمی قرار دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر صائمہ غیاث نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لیے نادرا کے قومی شناختی کارڈ میں بلڈ گروپ کی طرح تھیلیسیمیا اسکریننگ اور ٹیسٹ کا کالم بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نکاح نامے میں بھی تھیلیسیمیا ٹیسٹ منفی ہونے کا اندراج لازمی قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق اگر دلہا یا دلہن میں سے کوئی ایک بھی مائنر تھیلیسیمیا کا حامل ہو تو قاضی کو نکاح پڑھانے سے روکا جائے، بصورت دیگر اس پر جرمانہ اور لائسنس کی معطلی جیسی سزائیں دی جائیں۔
اس سے قبل فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کے ڈاکٹر حکیم شیراز صدیقی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ تقریب کے دوران طلبہ کی جانب سے تیار کردہ آگاہی پوسٹرز کی نمائش بھی منعقد کی گئی، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔
تقریب کے اختتام پر چانسلر محترمہ سعدیہ راشد اور وائس چانسلر ڈاکٹر عمران امین نے مہمانوں میں یادگاری شیلڈز جبکہ طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کیں۔ سیمینار نے تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی، احتیاطی تدابیر اور قانون سازی کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔



































