
بنت اسماعیل
حق کا راستہ، سچائی کا راستہ، اللہ کی خوشنودی اور رضا کا راستہ ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے
لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاء علیہم السلام اس راہ کے مخلص اور جان نثار مسافر تھے۔ اس راہ میں انہوں نے اپنی جان، مال، خواہشاتِ نفس ہر شے کو قربان کر دیا۔
ان قربانیوں کی بہترین مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ وہ حق کی تلاش میں سرگرداں پھرتے رہے اور جب حق مل گیا، تو مکمل طور پر اللہ کے فرمانبردار اور یکسو مسلم ہو گئے۔ اس راہ میں انہوں نے ہر مخالفت کا سامنا بڑی ثابت قدمی سے کیا۔ سب سے پہلے اپنے ہی گھر میں والد کی مخالفت برداشت کی۔ جب قوم کے سامنے اللہ کی وحدانیت کا اعلان کیا، تو قوم بھی دشمن بن گئی۔ بادشاہِ وقت نمرود تک بات پہنچی تو اس نے آپ کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا، مگر اللہ کے حکم سے آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی۔
جب قوم کسی طرح ایمان نہ لائی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی راہ میں عراق سے شام، فلسطین اور پھر مکہ ہجرت فرمائی۔ اللہ کے حکم سے اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور ننھے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ وادی مکہ میں چھوڑا۔ پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو اللہ کی رضا کے لئے اپنے لخت جگر کو قربان کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی عظیم قربانیوں،کامل اطاعت اور بے شمار صبر و استقامت کا روشن نمونہ ہے۔ انہوں نے اپنی ہر چیز راہ حق کے لیے وقف کر دی۔ آج کے مسلمان کے لئے ان کی زندگی ایک بہترین نمونہ اور روشن مثال ہے۔
آج فلسطین کی عوام جس صبر و استقامت اور قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی راہِ حق میں دی گئی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جو کسی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ ہر روز ایک نئی آزمائش ان کے مقدر میں لکھی جا رہی ہے، لیکن ان کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔ ان کی اس ثابت قدمی میں ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس سنت کی جھلک ملتی ہے۔ جس میں انہوں نے حق کی راہ میں اپنا سب کچھ خندہ پیشانی سے نچھاور کر دیا۔ فلسطینی مسلمانوں کے حوصلے ہمارے مردہ دلوں کو جگا رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی روشنی کو بجھا نہیں سکتا۔



































