
تہران ( ویب ڈیسک )ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو یہ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی
بلکہ اس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیلیں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ گزشتہ جنگ میں ایران نے اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کیں، تاہم اگر ایران کے خلاف دوبارہ کوئی کارروائی کی گئی تو نئی علاقائی اور غیر علاقائی صلاحیتیں فعال کر دی جائیں گی۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر جارحیت دوبارہ شروع کی گئی تو ایران جنگ کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر مزید حیرت انگیز ردعمل دے گا،واضح رہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی جنگ کی تیاریوں کی تصدیق کی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے چند دن کی مہلت دیتے ہوئے دوبارہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس طلب کیا جس میں فوج اور فضائیہ کے سربراہان سمیت اہم دفاعی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں اسرائیلی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔




































