
یاسمین اسلم/ کراچی
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
پاکستانی قوم ہر سال بڑے جذبے کے ساتھ 28 مئی کو یوم تکبیر مناتی ہے ۔1998 کو پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ
پاکستان ایک خود مختار مضبوط اور دفاعی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ یہ ایٹمی دھما کے بلوچستان کے علاقے چاغی میں کیے گئے تھے۔جب بھارت نے ایٹمی تجربے کیے تو پاکستان کو بھی اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے اہم فیصلے کرنے پڑے حالانکہ اس وقت پاکستان شدید بین الاقوامی دباؤ اور معاشی مشکلات کا شکار تھالیکن پاکستانی قیادت نے قومی دفاع کو مدنظر رکھتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے ان دھماکوں کے بعد پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا یوم تکبیر ہمیں اتحاد قربانی اور حب الوطنی کا درس دیتا ہے ۔
یہ دن ہمیں پاکستانی انجینئروں سائنس دانوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے ۔ یہ دن پاکستان کی بقا عزت اور وقار کی ضمانت ہے ۔ اس دن ملک میں تقریبات اور سیمینار اور خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ نئی نسل کو ملک کی دفاعی تاریخ اور قومی وقار سے اگاہ کیا جا سکے ہمیں چاہیے کہ ہم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اور استحکام کے لیے مل جل کر کام کریں اور وطن عزیز کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہیں ۔
آج کے دن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی خراج عقیدت پیش کرتی ہے ان کا یہ عظیم کارنامہ رہتی دنیا تک سنہری حروف سے لکھا جائے گا،اگر وہ پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بناتے تو اج پاکستان اپنے دشمنوں کے لیے ایک ترنوالہ ثابت ہوتا ۔بے شک ہم اپنے محسن کی وہ قدردانی نہ کر سکے جس کے وہ مستحق تھے اس کے لیے ہم ان سے شرمندہ ہیں ۔
اللہ رب العزت ہمارے پیارے ملک پاکستان کو ہمیشہ سلامت محفوظ اور مستحکم رکھے امین ثم امین



































