
نزہت ریاض
وینٹی لیٹرپرموجود مریض کے لیےدعا کی جا رہی تھی کہ اللہ اس کی زندگی لوٹا دے ۔ٓکوئی معجزہ ہو جائے اورمریض بچ جائےاور وہ مریض
کوئی اورنہیں ہے میرا "کراچی ہے"۔انا للہ و انا الیہ راجعون
اس لاوارث شہر کو ایک امید کی کرن حافظ نعیم الرحمن کی صورت میں نظرآئی تھی حافظ نعیم ڈاکٹرتونہیں انجینئر ہیں مگر اس شہرکے لیےوہ ایک ایسے ڈاکٹرکی صورت میں سامنےآئے جس پرمریض کے گھر والوں کی اللہ کےبعد آخری امید بندھی ہوتی ہے کہ وہ ہمارےمریض کو بچا لے گا۔
اس شہر کراچی کوجتنی جس کی توفیق ہوئی اس نےلوٹاجس کے ہاتھ جتناآیا اتنا اس نے اس کوکھایا۔
کسی نےچائنا کثنگ سےمال بنایا توکسی نےبھتہ خوری کاشعاراپنایا۔کسی نےتاجروں کوگولیاں پرچیوں میں باندھ کربھیجیں۔زندہ توزندہ قبرستانوں کو بھی نوگوایریا بنا ڈالا۔ عوام اپنےپیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے بھی نہیں جاسکتے تھےکہ وہاں بھی مافیا کاراج تھا۔کسی گروہ نےقربانی کی کھالوں کواپنے باپ کا مال سمجھ کرلوٹا تو کسی نے ٹینکرز مافیا کو بڑھاوا دےکرکراچی پرپانی بند کیا۔
پانچ سال تک سابق مئیراختیارات کا رونا روکراپنی جائیداد بڑھا کرچلتےبنے۔ان کی اپنی اولاد آج بھی امریکہ میں مقیم ہےاورکراچی آج بھی لا وارث ہے۔
تابوت کی آخری کیل آج کےدھاندلی زدہ مئیرکومنتخب کرکےٹھونک دی گئی ہے۔ٓپیپلز پارٹی کےمئیرمنتخب ہونے کے بعد آج کراچی اپنی موت کا پروانہ پا گیا ۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان دو ٹکڑے ہوا تھا۔ ادھا تیراآدھا میراکہہ کرپاکستان کے حصے بخرے کرنےوالے اب کراچی کا کیا حال کرنے والے ہیں ۔ یہ ہم سب بہت اچھی طرح جانتے اورسمجھتے ہیں ۔ بس اللہ سے دعا ہی کرسکتے ہیں کہ ہمارے کراچی میں حافظ نعیم الرحمن جیسے باکردارانسان کومئیر بنوادے تاکہ اس شہر کی حالت سدھرسکے۔




















