
نزہت ریاض
ہمارے پیارے نبی پاک حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےاسلام کوپھیلانے کی جوکاوشیں کیں ان میں بیٹیوں کوعزت اوران کےجان
بخشی کی کوششیں بھی بہت زیادہ تھیں ۔اس دور میں بیٹی پیداہوتےہی زندہ درگورکردی جاتی تھی۔اس کے کوئی حقوق نہیں ہوتےتھے۔جانوروں سےبدترزندگی گزارنے پرمجبورتھی۔
میرے نبی پاک نےعملی طورپراپنی بیٹی کوعزت دی۔بی بی فاطمہ کےآنےپران کا کھڑے ہوکراستقبال کرتے تھے۔ان کےبچوں میں توآپ کی جان تھی ۔آج بھی اسلامی معاشرے میں عورت کےسب سےزیادہ حقوق ہیں۔ مغربی معاشرہ ترقی کی دوڑمیں ہم سے کہیں ذیادہ آگےہو سکتا ہےمگر عورت کو آج بھی وہاں ٹشوپیپر کی طرح ہی برتا جاتا ہے ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پتا نہیں کتنے ہی ادارےعورتوں کےحقوق کےلیےکام کررہے ہیں۔این جی اوزبھی اپنے کاموں میں عورتوں کے حقوق کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں ۔تو سوال یہ ہےکہ ان ادروں اورقوم کو اپنی ایک بیٹی پر ہوتا ظلم کیوں نظر نہیں آتا؟ڈاکٹرعافیہ صدیقی پاکستان کی ہی بیٹی ہےنہ جسے یہاں کے حکمرانوں نے اپنے مغربی آقاؤں کی خوشنودی کےلیے ان کے سامنے پیش کردیا ۔
پھرچشم فلک نےاس بیٹی پرصعوبتوں کی بارش ہوتےدیکھی۔ بدنام زمانہ جیلوں میں اس پرزندگی تنگ کردی گئی ۔اس پربہمیانہ تشدد کی انتہاء کردی گئی ۔ بیس سال بعد اس کی بہن سے اس کی ملاقات کرائی گئی تو وہ ملاقات بھی شیشے کی موٹی دیوارکے پار فون کے ذریعے ہوئی جس میں اس کی حالت یہ تھی کہ تشدد کے بعد اس کے سامنے کےچاردانت ٹوٹے ہوئےتھے۔ سرپر چوٹ لگنے کی وجہ سےاس کی قوت سماعت کمزور ہوچکی تھی اوروہ اپنےاوپرظلم کی داستان سنانےمیں ملاقات کے قیمتی لمحات کا ایک گھنٹہ لگادیتی ہے۔
بحیثیت ایک مسلمان قوم کیاہم اب بھی خاموش رہیں گےکیا، اس پربیتنےوالےمظالم پر ہمارادل نہیں کانپےگا۔ کیا ہم اس کی رہائی کے لیے اپنا کوئی کردارادا نہیں کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کرکیا سکتے ہیں؟
جواب یہ ہے کہ یہ موبائل جوہروقت ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔سچ بتاییےگاسوکراٹھتے ہی ہم سب سےپہلےاپنےموبائل کوچیک نہیں کرتے اورپھر آرام سےآدھا پون گھنٹہ اس پر صرف کرکےبسترچھوڑتےہیں۔
" اسی موبائل کواپنی اس بہن کوواپس لانےکےلیے بھی استعمال کرلیں۔آج ہم پارٹی ہورہی ہے"اور "بھیگا بھیگا ہے سماں"جیسی ولگریٹی ،لڑکیوں کوشہرت دلا سکتے ہیں توکیا ہم اپنی قوم کی بیٹی کےلیےاس سوشل میڈیا پرآوازنہیں اٹھاسکتے ؟حکام بالا تک اپنی آوازپہنچائیں اورسینٹرمشتاق صاحب کی آوازسےآوازملا کراس ظلم کی نگری سے اپنی قوم کی بیٹی کووطن واپس لانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس دنیا فانی سےابدی دنیامیں اللہ کےحضور پیش ہوکراپنے لیےگواہ بنائیں جو آپ کے حق میں گواہی دیں کہ آپ نے کوشش توکی تھی۔ آپ خاموش تماشائی نہیں تھے ۔پتا نہیں کب داعی اجل کولبیک کہنا پڑے کچھ توزاد راہ جمع کریں۔اللہ سےدعا ہے کی اللہ عافیہ صدیقی کی اس کی زندگی میں وطن کی مٹی پرقدم رکھنے کی آرزو پوری کرا دے ۔





































