
نزہت ریاض
پتانہیں کیا مصیبت ہے اس گھرمیں کبھی کچھ ڈھنگ کا کھانے کوملے گایا نہیں۔
مینا نےہانڈی کا ڈھکنا کھول کردال کو دیکھ کر براسامنہ بنایا اورڈھکنا زور سے پٹخ کربڑ بڑائی۔
بہت بری بات بیٹی رزق کو دیکھ کرایسے منہ نہیں بناتے سلائی مشین پرجھکی مینا کی ماں ثمینہ نےمینا کو ڈانٹا۔
توامی آپ کو پتا ہے میں دال نہیں کھاتی پھر بھی ہفتے میں تین چاربار پکالیتی ہیں ۔ آپ کالج کی کینٹین میں اتنی مزے کی چیزیں ملتی ہیں مگر میرے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے کہ میں کچھ خرید سکوں ۔ مینا نےمنہ بسورتے ہوئے کہا۔
چلوتم منہ ہاتھ دھوکر یونیفارم بدل کرآؤ میں تمہارے لیےپیاز، ٹماٹر بھون کر چٹنی بنا دیتی ہوں روٹی کے ساتھ کھا لینا ثمینہ نے بیٹی کو بہلایا۔
جی یہ ٹھیک ہے مینا خوش ہوکربولی اورکپڑے اٹھا کر باتھ روم کی طرف چل دی۔
ثمینہ جب بیاہ کرتیمور کے گھر آئی تھی تو اس کے ساس ،سسرحیات تھے۔ تیمورکوملا کر تین بھائی اور تین بہنیں جن میں تیمور کا نمبر سب سےآخری تھا۔ تیمور کےوالد نےساری زندگی جو کمایا اس گھرکو بنا کر اپنے بچوں کے لیے چھت بناکر انہیں کرائے کے گھروں میں دھکے کھانےسے بچا لیا۔
تیمور سے بڑے دو بھائیوں کی شادی ہوئی توانہوں نےاسی گھرمیں تین پورشن بنا کرسب کوالگ الگ کر دیا اور اپنا حصہ تیمور نےنام کر دیا۔ اس طرح تیمور کےحصے میں امی ابو اورتیمور رہتے تھے تینوں بہنوں کی بھی شادی امی ابوکی زندگی میں ہی ہوگئی تھی۔
سب بچوں کی ذمہ داری سے فارغ ہو کر تیمور کی شادی کی باری تھی اور اب اس کی نوکری لگنے کا انتظار تھاپھراس کے فرض سے بھی فارغ ہو جاتے ۔
تیمور کی طبعیت سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے کچھ لاابالی سی تھی نوکری لگ بھی جاتی تو کچھ ہی دن میں چھوڑ کربیٹھ جاتا کبھی دیر سے جانے اور چھٹیاں کرنے کی وجہ سے نکال دیا جاتا ۔اللہ اللہ کر کے ایک جگہ اس کے مطلب کی نوکری لگی جہاں صبح دیر سے جانا ہوتا تھا صبح آرام سے سو کر اٹھتا ، گیارہ بجے تک دفتر پہنچتا یہ ایک نجی کمپنی تھی جو کہ مختلف پروڈکٹس کی سیلزکا کام کرتی تھی۔
نوکری لگنے کے چھ مہینے بعد تک جب تیمور نے جاب نہیں چھوڑی توپھر اس کی شادی کا سوچا جانے لگا۔بڑی بہو کے میکے کے عزیزوں میں سے ثمینہ کا تعلق تھا ثمینہ بہت سگھڑاورسلیقہ مند لڑکی تھی انٹر تک پڑھی تھی۔ تیمورکی امی کو پہلی نظرمیں ہی ثمینہ پسند آگئی یوں یہ رشتہ طےپاگیا اور ثمینہ دلہن بن کرتیمور کے گھراورپھر دل تک چلی آئی ۔
تیمور کو ثمینہ بہت اچھی لگی ، کم گوسی۔۔۔۔آج کل کی لڑکیوں سے بالکل مختلف نہ ذیادہ فیشن کرتی اور نہ ہی کوئی نخرے دکھاتی بلکہ تیمور ثمینہ کا ساتھ پا کر بہت بدلتا جارہا تھا۔ اس میں پہلاسا لا ابالی پن بھی نہیں رہا تھا۔ اب وہ کام پر بھی ذمہ داری سے جاتا اور اب اسے اپنی نیند بھی اتنی پیاری نہیں رہی تھی جس کی وجہ سے وہ کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں کرپاتا تھا۔
تیمور کے والداب بیمار رہنے لگے تھے۔ ثمینہ ساس سسرکا بہت خیال رکھتی مگرشادی کے کچھ عرصے بعد پہلے سسر اور ان کے ایک سال بعد ساس بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔
ساس سسرسے ثمینہ کو بہت ڈھارس تھی تیمورتو صبح کا گیا، رات کو ہی واپس آتا تھا۔ اب ثمینہ سارا دن اکیلی گھر میں بولائی بولائی سی پھرتی ، کہیں آنے جانے کی اس کی زیادہ عادت نہیں تھی، پھر اپنی بوریت کا اس نےخود ہی حل یہ نکالا کہ اس نے کپڑےسینے شروع کردیے۔ تیمور نے تو منع بھی کیا کہ کیوں خود کو تھکا رہی ہو۔ سارا دن گھر کے کام بھی کرتی ہو مگر ثمینہ نے اسے منا ہی لیا۔ شروع شروع میں تو پڑوس کی خواتین کےکپڑے ہی سیے مگر پھر اللہ نے اس کے کام میں خوب برکت ڈال دی اوردور دور کی عورتیں بھی سلائی کرانے آنے لگیں ۔
تیمورآفس سے واپسی میں صبح کا ناشتہ اوردودھ وغیرہ لینے مارکیٹ کی بیکری جاتا تھا۔ اس دن بھی وہ بیکری میں داخل ہوااوراپنی مطلوبہ چیزیں نکال کرکاؤنٹرپربیٹھےانکل کے پاس لے آیا۔ انکل اس کا بل بنانے لگےاچانک دو نوجوان جن کے چہرے پرماسک لگے تھے۔بیکری میں داخل ہوئے اور ان میں سے ایک نے اپنی پستول نکالی اور بیکری میں موجود لوگوں سے پیسے اور موبائل وغیرہ چھیننے شروع کر دئے،جب وہ گاہکوں کی طرف متوجہ تھے۔ انکل نے نظربچا کر پولیس کو کال ملانے کی کوشش کی کہ ان میں سے ایک لڑکے کی نظرانکل پر پڑی اوراس نے لپک کران کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا اور ایک زوردار طمانچہ انکل کےمنہ پر رسید کیا اور بولا " بڈھے جان پیاری نہیں ہے کیا۔ انکل بے چارے چکرا کر زمین پر گر گئے۔ تیمور کا یہ دیکھ کر خون کھول اٹھا اورایک دن وہ اس لڑکے پرجھپٹ پڑا اوراسے مارنا شروع کر دیا اس کی اس جرات پردوسرا لڑکا جس کے ہاتھ میں گن تھی، اس نے تییمور پرگولی چلا دی اور دونوں لڑکے تیزی کے ساتھ اسکوٹرپر بیٹھ کر فرار ہو گئے ۔گولی تیمور کے عین دل کے مقام پر لگی اسے ایمبولینس میں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ثمینہ کو خبر ملی تو وہ چکراکرگری اوربے ہوش ہو گئی اور وہیں ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹرنےاسے چیک کیا اور پتا چلا کہ وہ ماں بننے والی اس کی سمجھو دنیا ہی ختم ہوگئی تھی۔ وہ اس خبر پر کیا خوشی مناتی ۔
وقت گزرتارہااور یہ کڑاوقت اس نےسلائیاں کر کرکےہی گزارا ۔
پھر مینا دنیا میں آئی اوروہ ہوبہو تیمورکی شکل کی تھی ، ثمینہ اسےدیکھ کر بہت دیرتک تیمورکو یاد کر کے روتی رہی۔آج وہ ہوتا تو کتنا خوش ہوتا ۔ اس ننھی پری کو دیکھ کر اس کے دل سے ایک آہ نکلی۔
پھراس نے تن تنہا اپنی بچی کی پرورش شروع کی ۔کبھی کبھی ہمت ٹوٹنے بھی لگتی مگر پھر سے کمر باندھ کر اپنے کام میں لگ جاتی ۔
مینا کی شکل کےساتھ ساتھ عادتیں بھی بالکل تیمورجیسی تھیں لاابالی اور نیند کی رسیا اسےسوتے سےاٹھانا کشمیر فتح کرنے سے کم نہ تھا اور تھوڑی سی بےحس بھی تھی ۔ بچپن سے ماں کو محنت کرتےدیکھ کر بھی اسے ماں کا احساس نہ ہوتا ۔ بس ہر وقت اچھےکپڑے اچھے کھانوں کی فرمائش کرتی رہتی کالج کی لڑکیوں سےاپنا مقابلہ کرتی اور پھر ماں کو سناتی رہتی فلاں لڑکی کا موبائل اتنا اچھا ہے۔ کسی کا بیگ اتنا قیمتی ہے۔ کوئی اتنی اچھی کارمیں بیٹھ کر آتی ہے اور ثمینہ سوچتی رہ جاتی میری تربیت تو ایسی نہ تھی پھرمینا ایسی کیوں ہوتی جا رہی ہے؟
آج مینا کے کالج میں لڑکیاں مدرز ڈے کا ذکر کررہی تھیں۔ کئی لڑکیاں اپنی امی کے لیے کارڈز بھی بنا رہی تھیں اچانک مینا کےذہن میں ایک خیال آیا کہ میں اپنی امی کے لیے سوائے مشکلات کےاورکیا کرتی ہوں۔ وہ دن رات محنت کرتی ہیں اور میں انہیں باتیں ہی سناتی رہتی ہوں ۔ وہ پھر بھی مجھ سے کتنی بے لوث محبت کرتی ہیں۔
مینا کی آنکھوں میں آنسو تھےاورذہن میں ایک ہی سوچ کہ آئندہ میں امی کو کبھی تنگ نہیں کروں گی تاکہ ان کی انتھک محنتوں کا انہیں کچھ تو صلہ ملے۔





































