
نزہت ریاض
نوراٹھ جاؤ بھئی وین آتی ہوگی ،روز کالج دیر سے جاتی ہو اور تمہاری وجہ سے مجھے فیکٹری پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے۔۔۔۔ اٹھ جاؤ بیٹی ۔
کیا امی آپ تو کالج بھی اسکول کے بچوں کی طرح بھیجتی ہیں ۔ ایک دن کی بھی چھٹی نہ ہو جائے نور نے چادر میں سے منہ نکال کر ٹھنکتے ہوئے امی سے شکوہ کیا ۔
؛ہاں بیٹی میں چاہتی ہوں تم پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاؤ میری طرح تمہیں فیکریوں کی محنت مزدوری والی نوکری نہ کرنی پڑے۔ تعلیم بہت ضروری ہے بیٹی ۔۔
اٹھ گئ امی آپ ناشتہ لگائیں میں دو منٹ میں منہ ہاتھ دھوکر آرہی ہوں۔
نور کی امی شادی کے تیسرے سال ہی بیوہ ہوگئی تھیں۔ ماں باپ تھے نہیں ۔۔۔ بھابیوں نے جیسےتیسے کر کے شادی کراکراپنی جان چھڑائی اب بیوہ نند کو تو بالکل کوئی بھی سہارا دینے کے موڈ میں نہیں تھا، سارے حالات کو دیکھتے ہوئے نور کی امی نے فیکٹری میں نوکری کرلی اوراپنی بچی کی کفالت خود کرنے لگیں شکرہے بھابیوں نےسر چھپانے کا آسرا دےدیا تھا ۔
نور کو برابر والی خالہ جو خود اپنی بہو کے ہاتھوں سارا دن پریشان رہتی تھی ان کےپاس چھوڑ کر جاتی اور انہیں مہینے کے کچھ پیسے دے دیتی ۔
اسی طرح محنت کر کے نور کو پالا اب نور کالج میں تھی ۔کالج وین کا ہارن بجا اور نور سلام کر کے وین میں جا کر بیٹھ گئی ۔ وہ ہمیشہ کھڑکی ک ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتی تھی آج بھی اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی اور بیگ سے بک نکال کر آج کے ٹیسٹ کا دہرانے لگی ۔
اتنے میں اس کےہاتھ پر ایک پڑیاسی آکر لگی اس نے چونک کرکھڑکی سے باہردیکھا ایک اسکوٹرسوارنےاسے کوئی چیز پھینک کر دی اورآگےنکل گیا ۔
نور نے پڑیا اٹھایا جو ایک چھوٹے سے پتھر میں پیپرلپٹا ہوا تھا کھول کردیکھا تو لڑکے کا فون نمبرتھا اوراس نے اس میں اپنا حال دل لکھا تھا۔۔۔۔ میں کئی دن سے تمہیں کالج جاتے ہوئے دیکھتا ہواجاتا ہوں مگر تم کبھی میری طرف متوجہ نہیں ہوتیں تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔ اگر ایک بار مجھے فون کر لو تو مجھے سکون مل جائےگا ۔نور کا اس ساری بکواس پر دماغ گھوم گیا،اس نے کاغذ کے پرزے کر کے کھڑکی سے باہر پھینک دئے ۔
دوسرے دن وہ لڑکا پھر اپنی اسکوٹرکھڑکی کےساتھ چلاتا نور کو اشارے کرنےلگا نور نےڈرائیور کو گاڑی روکنےکو کہا اور اترکر اس لڑکے کے سر پر پہنچ گئی ۔
"کیا مسئلہ ہے تمہیں کیوں میرا پیچھا کررہے ہو ؟
"تم مجھے اچھی لگتی ہو محبت ہو گئی ہے تم سے لڑکے نے بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے فرمایا"
"محبت کے بچے دوبارہ اگر میرے سامنے بھی آئے نا تو اپنے جوتے سے تمہارا سر کھول دوں گی اورہم سب لڑکیاں تمہاراوہ حشر کریں گی کہ سات نسلوں میں کوئی رانجھا پیدا نہیں ہوگا۔
وین کی ساری لڑکیاں ہنسنے لگیں اور لڑکا اسکوٹر دوڑاتا بھاگ کھڑاہوا۔نور نے ہاتھ جھاڑے اور واپس وین میں بیٹھ گئی۔دوبارہ وہ لڑکا نظر نہیں آیا اور نور سکون سے کالج جاتی رہی۔
اب فائنل امتحان شروع ہو رہے تھےاور سینٹر کے لیے وین والا لےکرنہیں جاتا تھا اسی لیے پبلک بس سے جانا پڑتا تھا اور اسٹاپ گھر سے کافی دور تھا ۔
نور کو گھر سے جلدی نکلنا پڑتا ایسےہی ایک دن تیز تیز قدم اٹھاتی وہ بس اسٹاپ کی طرف بڑھ رہی تھی کہ وہی لڑکا اس کے سامنے آکراس کا راستہ روک کرکھڑا ہو گیا۔ ہاں بھئی بہت شریف بن رہی تھی نہ اس دن آج مزا چھکاتا ہوں اس دن کی بے عزتی کا اور پھر تیزی سےنور کے چہرے کی طرف کچھ اچھالانور تڑپ کراپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر چلانے لگی اورلڑکا تیزی سے گلیوں میں دوڑ گیا۔
وہ تیزاب تھا جو نور کے چہرے کے ساتھ اس کے اور اس کی ماں کے سارے خواب بھی جلا گیا۔ وہ ماں جو اپنی جوانی صرف اسی آس پر قربان کرکے بیوگی کی زندگی گزار آئی تھی کہ اس کی بیٹی پڑھ لکھ کر اس کا سہارا بنے گی، آج ہسپتال میں نور اپنی آنکھوں کا نور کھو کر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر تڑپ تڑپ کر روتے ہوئے بول رہی تھی امی میری با کرداری میرے لیےگناہ کیوں بن گئی ۔ اس آوارہ لڑکے کی گھٹیا محبت میرے چہرے میری آنکھوں پر آگ بن کر اتری ۔ میں تو بہت کچھ کرنا چاہتی تھی مگراب بھی میں ہمت نہیں ہاروں گی ۔ میں اپنی زندگی کو ایسی لڑکیوں کے لیے مثال بناؤں گی جو ایسے کسی حادثے سے مایوس ہوجاتی ہیں۔ اپنی زندگی میں آگے نہیں بڑھاتیں میں رکوں گی نہیں میں تھکوں گی نہیں ۔





































