
نزہت ریاض
ہاتھوں میں ہتھکڑی اورمنہ پرکپڑااس کا چہرہ مکمل چھپا ہوا تھااور پولیس والےاسے گھسیٹتے ہوئے پھانسی گھاٹ تک لے جا رہے تھے۔آج اس کو
پھانسی ہوجانی تھی ۔
وہ مرے مرے قدموں سے گھسٹتا چلاجا رہا تھا اس کےدماغ میں اپنا ماضی کسی فلم کی طرح گھوم رہا تھا۔
اس کی زندگی سادگی اور صبرسے گزرہی تھی ۔ بیوی بھی اللہ نے سادگی پسند دی تھی۔مارکیٹ میں پرچون کی دکان تھی گزر بسر آرام سے ہوجاتی تھی ۔
ایسے ہی ایک دن اس نے اپنی دوکان کھولی اورچیزوں کی جھاڑ پونچھ کر کےسیٹ کرنے لگا ابھی مارکیٹ پوری طرح کھلی نہیں تھی، اسی لیےزیادہ رونق بھی نہیں تھی ۔
اس کی دکان سےدو دکان چھوڑ کر ایک بزرگ گھڑی سازی کاکام کیا کرتے تھے،ان کا چھوٹا سا ٹھیا تھا جہاں وہ ایک کرسی پر بیٹھے رہتے۔ سارا دن میں دو چار لوگ ہی بمشکل گھڑیاں صحیح کرانےآتے باقی سارا دن بزرگ بےچارے فارغ بیٹھے رہتے۔
اس دن بھی بزرگ اپنی کرسی پر بیٹھے تھے کہ ایک نوجوان لڑکا ان کے پاس آیا اوراپنی گھڑی دکھائی بزرگ نے گھڑی دیکھی جو کافی قیمتی تھی ،ایسی گھڑیاں عموماً باہر ممالک سے منگوائی جاتی ہیں ان کے پاس اس گھڑی کے پرزہ جات نہیں تھے۔ انہوں نے گھڑی نوجوان کو واپس دیتے ہوئے کہامیرے پاس اس کے پرزے نہیں ہیں۔ آپ نے یہ کہاں سے لی ہے وہاں لے جائیں شاید وہاں سے یہ صحیح ہو سکے۔
ارے بڈھے جب پرزے نہیں تو دکان لے کر کیوں بیٹھا ہے؟
میں نے تو ڈکیتی مارتے ہوئے ایک لڑکے کےہاتھ سے نوچی تھی مجھےکیا پتا کہاں سےلی ہوگی اس نے۔کیا تم ڈکیت ہو بزرگ نے حیرت سے لڑکے سے پوچھا ؟
ہاں ہاں ڈکیت ہوں اتنا سنتے ہی بزرگ نے اس لڑکے کو دبوچ لیا اورچلائےنہیں چھوڑوں گا۔ تجھے پولیس کےحوالے کروں گا تیرے ہی جیسے کسی ڈکیت نے میرے اکلوتے بیٹے کو موبائل چھینتےہوئے گولی ماری تھی۔ اس کی جان لی تھی، نہیں چھوڑوں گاتجھے ۔
ابے چھوڑ بڈھے تیری یہ ہمت تو مجھے پکڑے گا ۔ تیری توابھی طبعیت صاف کرتا ہوں
وہ اپنی دکان سے یہ منظر دیکھ کراس طرف لپکا اوربزرگ کو اس لڑکے کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش میں لڑکے کوزور سے دھکا دیا، لڑکا اپنی پوری طاقت کے ساتھ فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا اس کا سرفٹ پاتھ پر لگا اور سر سےخون کا فوارہ نکلنے لگا بزرگ اوروہ دونوں لڑکے کی طرف لپکے اوراسے ہلا جلا کر دیکھنے لگے بزرگ نے ایمبولینس کو فون کیا اور دونوں اسےہسپتال لےکر پہنچے۔ ہسپتال والوں نے پولیس کو بلا لیا وہ لڑکا مرچکا تھا اور پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ۔
پولیس نے اس کے گھر اطلاع کی۔ اس کی بیوی کو لےکرتھانے پہنچے ۔پولیس والوں نے اچھی خاصی رشوت طلب کی جو اس کی بیوی کے بس سے باہر تھی مکان بھی کراۓ کا تھا ورنہ وہی بیچ کراپنے شوہر کو بچا لیتی ۔
بہرحال کیس چلتا رہا پانچ سال تک وہ پیشیاں بھگتاتا رہا اوربالآخر اسے پھانسی کی سزا سنا دی گئی اورآج اسے پھانسی ہوجانی تھی اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوال تھا کہ اس ملک میں نیکی کرنا اتنامشکل اور گناہ کرنا اتنا آسان کیوں ہو گیا ہے کیا خطا تھی میری یہی کہ میں ایک عمر رسیدہ آدمی کی مدد کر رہاتھا کیا میں آنکھیں بند کر لیتا جو ہورہا تھاہونےدیتا تو شاید آج میں اپنی زندگی آرام سے گزار رہا ہوتا میری بیوی قید تنہائی نہ کاٹ رہی ہوتی۔
اس ملک کے بانی نے یہی خواب دیکھا ہوگا اس وطن کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان نام رکھتے ہوئے اسلامی قوانین بھی رکھے گئے تھے۔ کہاں ہے وہ قانون جو ایک ڈکیت کے قتل کے جرم میں مجھے سولی چڑھارہا ہے،کہاں ہیں وہ ججز جو انصاف کے تقاضے پورے کر پائیں۔ شاید نہیں ہے کوئی مسیحا ملےجو پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بناسکے۔





































