
نزہت ریاض
بچپن میں ہمارے گھرمیں ٹی وی نہیں تھا ۔پرانے وقتوں میں اکثر لوگوں کے گھر پر ٹی وی نہیں ہوتا تھا۔ مجھےیاد ہےمیں پڑوسیوں کے گھر ٹی وی دیکھنے جایا کرتی تھی۔ یہاں
پڑوسیوں کی تعریف کرتی چلوں آج ہمیں اپنی ہی بلڈنگ کےاوپر یا نیچے کے پورشن کے مکینوں کی کوئی خیر خبرنہیں ہوتی جبکہ اس دور میں ہمارے اپنے دائیں بائیں کےگھروں کے علاوہ بھی پورے محلےکی خبرہوتی تھی۔ میری امی جس دن کڑھی چاول بناتیں تو اس دن وہ محلے میں اس طرح بانٹتں کہ شوکیس کے سارے پلیٹ سیٹ باہرآ جاتے تھے ۔
خیر اصل بات کی طرف آتی ہوں تو ہم ٹی وی دیکھنےپڑوس میں جاتے تھے وہ پڑوس کی خاتون اپنےگھر کے سارے کام نمٹا کر ہمارےساتھ ہی ٹی وی دیکھنے بیٹھ جاتیں تھیں اور جب ہم ڈرامہ یا جو بھی پروگرام اس وقت آرہا ہوتا تھا دیکھ چکےہوتے تو وہ ٹی وی بند کر کے ہمارے ساتھ ہی اٹھ جاتیں ۔
ایسے ہی ایک دن ان کی ساس نے پروگرام کےدوران ان خاتون کو کوئی اور کام کرنے کو کہا توانہوں نے اپنی ساس کو نرمی سےجواب دیا کہ امی یہ بچے ٹی وی پروگرام دیکھ کر چلے جائیں تو میں آپ کا کام کر دیتی ہوں۔
ان کی ساس بولیں ارے ان بچوں کو ٹی وی دیکھنے دوتم میرا کام کردو۔
اس بات پران خاتون نے جوجواب دیا وہ آج تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے
امی اگر ان بچوں نے ٹی وی میں کوئی غلط چیز دیکھ لی تو اس کا گناہ میرے سر ہوگا ۔اسی لیے میں ان کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھتی ہوں۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس دور میں تو ایک ہی چینل تھاپی ٹی وی اوراس پر بھی بہت صاف ستھرے اخلاق اورتہذیب والےپروگرام آیا کرتےتھے تب بھی ان خاتون کو پرائے بچوں کی اتنی فکر تھی اب وہ خاتون اس دنیا میں نہیں ہیں اگر ہوتیں اور آج کے ٹی وی چینلز پرجس طرح کے ڈرامے اور کمرشلزآ رہے ہیں وہ دیکھ کر تو وہ شاید بہت پہلے ہی مرجاتیں۔
ڈرامہ دیکھنے بیٹھو تو ذو معنی جملے،ہیرو ہیروئن کی حدسے زیادہ قربت اور ہیرو ہیروئن کوتو چھوڑیں والدین کابھی کوئی سین ہو تووہ بیڈ روم سے شروع ہو کربیڈ روم پرہی ختم ہوتا ہے۔چلیں بیڈ روم کا سین دکھانا اتنا ہی ناگزیرہےتو بیٹھ کربات کر لیں، نہیں جی ایک ہی کمبل یا چادر میں لیٹ کرہی بات ہوگی تو بات بنےگی۔
کسی ایک چینل پربھی ایسا کوئی ڈرامہ نظرنہیں آتاجسےمیں اپنی سات سال کی بچی کے ساتھ بیٹھ کربےفکری سے دیکھ سکوں ۔ایک بھیڑچال ہے جس کا شکارہرچینل نظر آتا ہے۔
ڈرامےسےبد دل ہوکرخبریں لگاؤں تو خبریں سنانے والی لڑکیاں نیوزریڈر کم فیشن ماڈل زیادہ نظرآتیں ہیں۔ بناء دوپٹے کے گہرے گلےوالے ٹائٹ فٹنگ کے عجیب بےہودہ کپڑے پہنےوہ لڑکیاں اپنی طرف زیادہ متوجہ کررہی ہوتی ہیں خبروں پرکیا خاک توجہ دی جائے۔
میں تو ایک عورت ہوں،مجھے وہ لڑکیاں بری لگ رہی ہیں مگر ہرگھر کے مرد تو ٹی وی پر خبریں ہی دیکھتے ہی ہیں، ان کے دل سے کوئی پوچھے کہ وہ کس طرح اپنی نظروں کو بےحجابی کے اس فتنے سےمحفوظ رکھ پاتے ہوں گے۔خبر نامے سے چینل چینج کریں تو اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے۔
ہئیر ریموونگ کریم کےاشتہارمیں پورے برہنہ بازو اورآدھی برہنہ ٹانگیں۔
بلیڈ کےاشتہار میں اول تو لڑکی کا کام ،مگر پھربھی وہ مرد کےگلے کا ہار بنی جا رہی ہے۔
موٹرسائیکل کے اشتہار میں لڑکی اس مرد کے پیٹ کو پکڑے بیٹھی ہے
اور تمام بے ہودگیوں پارکرتے ہوئے آل ویز کے اشتہارات پہلے تو لڑکی کا جملہ ان خاص دنوں تک محدود تھامگر اب تو وہ اور بھی آپے سے باہر ہوئی جارہی ہے۔ اب جملہ ہےّ" آل ویزفلو " کے حساب سے حفاظت کرے ۔
اب بتائیے اوررہ کیا گیا دیکھنے اورسننے کو ؟
اب میری اس خاتون سے مودبانہ گزارش ہےکہ بہن میری یہ جو تم ناچ ناچ کر اشتہاربنوارہی ہو تب تمہیں کوئی فکرکیوں نہیں ہوئی؟ناچنے پر۔۔۔ آج ٹی وی چینلز پر اسی فیصد اشتہارات ڈانس سےشروع ہوکر ڈانس پر ہی ختم ہوتے ہیں ۔چاہے وہ پنکھے کا اشتہار ہو یامکھن کا ہم نے تو آج تک کسی نارمل فیملی کو ناچتے گاتے ناشتہ کرتے نہیں دیکھا تو یہ کون سے گھروں کا کلچر ہے جو عام گھروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
سم بیچنے والی کمپنیاں بھی ہمیشہ چند مخصوص اداکاروں کو کارٹون بنا کر دکھاتی ہیں ،اب کوئی مجھے یہ سمجھائے کہ ایک سم خریدنے کے لیے ایک اچھا بھلا نوجوان بندروں جیسی حرکتیں کیوں کرنے لگے؟اورایسی سم پر لعنت ہی نہ بھیج دی جائے جس کو خریدنے کے لئے وہ باؤلہ سا ہوگیا۔
"ہراکام میں کھرا" اورکام کون کر رہا ہے شوہر ۔۔۔۔ یعنی کہ حدہوگئی ۔ہمارے معاشرے کی عورت اب اتنی بھی بےحس نہیں کہ سارا دن کام کرکےآنے والے شوہرسے برتن دھلوائے ؟
یہ تو ان آنٹیوں کی حمایت کرنا ہوگیا جواپنا کام خود کروا کے نعرے لگاتی نظر آتیں ہیں۔ کہیں کسی جگہ تومرد کو پر وقاررہنے دیا ہوتا ۔ ہر طرح کے اشتہار میں مرد بیوی سےڈراسہما نظر آرہا ہے کیا۔عام متوسط شریف گھرانوں میں شوہر ایسے ہوتے ہیں جیسے ان اشتہاروں میں دکھائےجا رہے ہیں؟ نوجوانوں کو دیکھیے لڑکی ہو یا لڑکا بس ڈانس ہی کرتا نظر آرہا ہے کیا پاکستان کےنوجوانوں میں کوئی صلاحیت باقی نہیں بچی جو وہ صرف ناچ کر ہی پیسہ کما رہے ہیں۔ ناچ کر کمانے والا تو ایک مخصوص طبقہ ہوا کرتا ہے ،یہاں ٹی وی پر ہر نوجوان اسی ڈگر پرچلتا نظر آ رہا ہے ۔
اب آتے ہیں فیملی پلاننگ کے اشتہاروں کی طرف تو وہاں بھی فحش جملوں کی بھرمار نظر آتی ہے۔ میرے خیال میں عورت کے مخصوص ایام یا فیملی پلاننگ ایک انتہائی پرسنل میٹر ہےجس کا ٹی وی پر اشتہار چلا کر یہ لوگ اپنی ذہنی پستی کا مظاہرہ کھلے عام کررہے ہیں۔
اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں اسلامی اقدار کی کمی ہی سب سے زیادہ نظر آتی ہے ۔ہم ماڈرن ہوکر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کیا یہ کہ ہم ترقی یافتہ قوم ہیں ؟ تو معاف کیجیے گا ترقی تو پاکستان کے کسی بھی شعبے میں دور دور تک بھی نظر نہیں آ رہی پستی ہی پستی ہر طرف پھیلی نظرآرہی ہے۔
وطن کے دو ٹکڑے ہوئےاورترقی بنگلہ دیش کا مقدربنی ۔
آج ترقی کی دوڑ میں بنگلہ دیش ہم سے بہت آگےپہنچ چکا ہے اور ہم تو لگتا ہے ریورس جا رہے ہیں جو ادارے پہلے کچھ بہتر نظر آتے تھے آج وہ بھی بگڑے ہوئے ہی نظرآتے ہیں۔
تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ٹی وی چینلز پربے ہودگیاں دکھا کرہم اپنے بچوں کو وقت سے پہلے بڑا اورسمجھدار کر کے ان کی معصومیت ان سے نہیں چھین رہے ؟
موبائل کا شرکم تھا کیا جو ٹی وی پر بھی ایسی ہی نشریات دیکھنی پڑرہی ہیں جو بچوں کے ساتھ بیٹھ کر تو ہرگز نہیں دیکھی جا سکتیں۔ اس فتنے کے دور میں جب فتنے بارش کے قطروں کی طرح ایک کے بعد ایک چلے آرہے ہوں تو کس طرح ہم اپنی نئی نسل کو ان فتنوں سے بچائیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔
بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ اللہ ہمیں ان فتنوں سے بچنے اور لڑنے کی صلاحیت اور طاقت عطا فرمائے۔





































