
نزہت ریاض
انتیس نومبر کا دن دوپہر کے ڈھائی سے تین بجے کا وقت۔۔۔کراچی ملیرکےعلاقے شمسی کالونی میں باپ نے اپنی تین بچیوں اوربیوی کوگلا کاٹ کرقتل کر
دیا ۔بچیوں کی عمریں دس سے سولہ سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں، ملزم نےپہلے بچیوں کوگردن کاٹ کرقتل کیا اور بیوی جو اس وقت واش روم میں نہانے گئی ہوئی تھی ،اس کودروازہ پیٹ کرباہر بلایا اوراسی حالت یعنی برہنہ حالت ہی میں قتل کردیااور پھر اپنی جان لینے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہا۔
خبریہاں شیئر کرنے میں کتنی ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑ رہا ہے۔یہ میرا دل ہی جانتا ہے۔میں خود پانچ بچوں کی ماں ہوں اوربہت مشکل حالات زندگی گزارتی آئی ہوں، مگر مجھے تو کبھی اپنے بچے برے نہیں لگے کیونکہ ان کے دنیا میں آنے کےذمہ دار وہ نہیں ہم ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ بچے اللہ کی دین ہوتےہیں مگر عقل و شعور بھی اللہ نے ہی انسان کو دیا ہے۔ میرے حلقہ احباب کے لوگ کئی دنوں سے مجھے ٹوک رہے ہیں کہ آپ بہت بے باک تبصرہ کرتی ہیں چاہے وہ سندھ گورنمنٹ ہو
؛حکومتی ادارے ہوں یا کراچی کےمسائل ہوں ۔ ہاتھ ذرا ہلکا رکھا کریں ۔آپ سب دوستوں کے مشورے کا شکریہ مگرمیں کیا کروں دل تو پورے پاکستان کے حالات کے لیے ہی دکھتا ہے مگر چونکہ کراچی میں پیدا ہوئی یہیں پلی بڑھی توقدرتی طور پر کراچی سے محبت بہت زیادہ ہے اور جب یہاں کوئی ایسی خبر سننےمیں آتی ہے تو دل بے اختیار تڑپ اٹھتا ہے۔اسی لحاظ سے آج کی یہ خبرسن کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے یہاں قاتل کوئی کرائے کا قاتل یا پیشہ ورمجرم نہیں کوئی ٹارگٹ کلرنہیں بلکہ اس فیملی کا سربراہ ،ان کا اپنا باپ اور شوہر ہے۔
میاں بیوی تو ایک دوسرے کا لباس بتائے گئے ہیں، تو کس دل سے اس شخص نے اپنی بیوی کو بے لباسی کی حالت میں قتل کر دیا ؟ اب تک کی خبروں سے اندازہ یہ ہورہا ہے کہ یہ کوئی ایسی فیملی نہیں تھی جہاں کوئی فاقے کر رہا تھا یا بالکل گئےگزرے حالات ہوں جن کی وجہ سے بات اس حد تک خطرناک ہوگئی کہ اپنی ہی بیٹیوں اور بیوی کو قتل کر دیا جائے۔
یہاں بہت سے لوگوں کی آراءمختلف ہوسکتی ہیں کوئی ہمدردی کرے گا کہ بےچارےکےپتا نہیں کیا حالات ہوں گے،خود کوبھی توختم کررہا تھامگر میری ذاتی رائے میں یہ شخص کسی بھی قسم کی ہمدردی کا مستحق نہیں ہے۔اچھے اور برے حالات ہر ہر کسی پرآتے ہیں اور یہ ہوس ہی ہےجو اور اور اور کی تلاش میں ہمیں بے حال کر ڈالتی ہے ۔ کسی کے پاس اچھی گاڑی ہے تو ہمیں اس سے بھی اچھی گاڑی چاہیے،کسی کا بچہ اعلیٰ اسکول میں پڑھ رہا ہے تو میرا بچہ کیوں کسی کم فیس والے اسکول میں پڑھے،فلاں کے پاس آئی فون ہے تو میرے پاس کیسےکم قیمت موبائل ہو سکتا ہے، پڑوسی کے پاس اسپورٹس بائیک ہے تو میں کیوں ہلکی بائیک چلاؤں۔ یہ سب ہوس کے زمرے میں آتا ہے اور بےشک ہمارا نفس ہمارا سب سےبڑا دشمن ہے ۔
میرے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ نے جیسی مشکل زندگی گزاری کیا آج ہم ویسی زندگی گزاررہے ہیں؟ نہیں۔۔۔ نہ ہم تو بہت ہی پر آسائش زندگی گزار رہے ہیں اور جتنی آسائش اور سہولتیں ہمیں میسر ہیں اتنے ہی ہم نا شکرے ہیں۔ اتنا ہی ہمارا نفس بے قابو ہے اور یاد رکھیں جہاں ناشکری ہوگی وہیں فتنہ پیدا ہوگا اور ایسے ہی فتنے کا شکاریہ مذکورہ خاندان نظر آتا ہے۔ یہ میری ذاتی سوچ ہے ورنہ بات کچھ اور بھی ہو سکتی ہے وللہ اعلم ۔
یہاں میں خاص طور پر اپنےمعاشرےکی خواتین کا ذکرضرورکروں گی۔فضول خرچی بے؛ جا خواہشات ،فیشن کی اندھی تقلید ،دوسروں کو دیکھ کر حرص کرنا، یہ ساری عادتیں خواتین میں ہی ذیادہ پائی جاتی ہیں ورنہ مرد حضرات کوتو میں نے غم روزگار میں الجھے ہوئے ہی پایا ہے۔ کیا وہ فیشن کریں گےجب سارا دن کے تھکے ہارے گھر کو لوٹیں اورگھر والی فرمائے" سنیے میں آج امی کی طرف گئی ہوئی تھی ، کھانا نہیں پکایا بازار سے کچھ لے آئیں"کیا گزتی ہوگی اس وقت اس بندے پرجو سارے راستے بازاروں سڑکوں اورراستوں پر اچھے اچھے پکوان بکتے دیکھ کر بھی یہی سوچتا آرہا تھا کہ گھر جا کر ہی گھرکا بنا کھانا کھا لوں گا دو پیسے توبچیں گےیامہینے کا آخر چل رہا ہو کھینچ تان کر گزارا کرنا پڑ رہا ہواور ایسے میں کانوں میں صوراسرافیل کی مانند ایک آواز آئے"میرے میکے میں خالہ کی بیٹی کی نند کی کزن کی شادی ہے،مجھے نیا سوٹ چاہیے"ارے اللہ کی بندی بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کےمصداق اتنی دور پرے کی شادی میں بھی نیا ہی سوٹ چاہیے،پرانے سوٹ سے بھی کام چلایا جاسکتا ہےمگر نہیں صاحب جو پرانے سوٹ پر راضی ہوجائے وہ بیگم ہی کیا ؟بہرحال بہت ہی دلخراش واقعہ ہوا ہے۔
ایک بات ذہن میں رکھیں کراچی میں اب وسائل کم اورمسائل زیادہ بکھرے نظر آتے ہیں کیونکہ میرا یہ روشنیوں کا شہر اب مصیبتوں کا شہربنتا جا رہا ہے۔ گھر سے مرد حضرات کے باہر جاتے وقت ان پر آیت الکرسی کا حصار کریں نہ کہ انہیں فرمائشوں کی لسٹ پکڑائیں۔ وہ سارا دن آپ کے اور بچوں کے لیے ہی گھر سے باہر دھکے کھا رہے ہوتے ہیں اور کراچی کے حالات ہر لحاظ سے اب محفوظ نہیں ہیں،خدارا ان باتوں کا بھی خیال کریں۔ بہرحال اللہ اس واقعے کے مرحومین کی مغفرت فرمائے اور اس واقعے سے ہمیں سبق حاصل ہو کہ ہم اپنی بی جا خواہشات کو نظر انداز کرنا سیکھیں،صبر کو اپنا شعار بنائیں اور جب اپنے اوپر ترس آئے تو اپنے سے نیچے والوں پر ایک نظر ضرور ڈال لیں ۔ لبوں سے خود ہی کلمہ شکر ادا ہوجائے گا ۔





































