
نزہت ریاض /حریم ادب
شہر کراچی سندھ کا ایک حصہ ہےاور سندھ میں دریائےسندھ بہتا ہےمگر کراچی کےعوام اتنی بدنصیب ہیں کہ میٹھے پانی پر ان کا کوئی حق نہیں ہے۔
اسے استعمال کرنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے بلکہ بہت سےعلاقوں میں تو کئی کئی فٹ بورنگ کرنے پر بھی بورنگ کا پانی دستیاب نہیں ہوتا اوریہاں کردارشروع ہوتا ہےواٹر ٹینکرمافیا کا۔
کراچی میں گھرکی لائنوں میں پانی دستیاب نہیں،مگر ان ٹینکرزمافیا کو پانی کہاں سےاتنی وافر مقدار میں مل رہا ہے سمجھ میں نہں آتا؟ پانی کے یہ ٹینکر جہاں منہ مانگی قیمت پرپانی بیچ رہے ہیں اس کا بوجھ کراچی کےعوام بھگت رہے ہیں ۔میں توجہ دلانا چاہتی ہوں انسانی جان کے لیے یہ ٹینکر کس قدر خطرناک ہیں رواں ہفتے میں ناظم آباد عید گاہ پرنوجوان لڑکا واٹر ٹینکر کی زد میں آکر جان گنوابیٹھا۔ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھاجو انہیں ساری زندگی کا دکھ دے گیا ۔
میں پوچھتی ہوں کراچی کے نوجوان کس کس خطرےسےاپنی جان بچا کرشہرقائد میں روزگارتلاش کرنےنکلیں ؟دن دہاڑے ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ مصروف شاہراہوں پر باقاعدہ ناکہ لگا کر ڈکیتیاں کی جارہی ہیں۔چند ماہ قبل تک تو لوٹ مار کر کے چھوڑ دیا کرتے تھےمگر اب تو یہ ڈکیت گولی مارکر جان لینے میں ایک منٹ لگاتے ہیں اور کسی کے گھر کا چراغ گل ہوجاتا ہے ۔
کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر آئےدن ایکسڈنٹ کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔اس کا شکاربھی سب سےٓزیادہ نوجوان ہی ہوتےہیں۔ روزگار کے نام پر فوڈ پانڈا پزابوائے بنے یہ نوجوان اپنی جان پر کھیل کراسکوٹرچلاتے ہیں کہ اگر وقت پر ڈلیوری نہ کی جائے تو تنخواہ سے پیسے کاٹ لی جاتی ہے,پھر واپس آتی ہوں پانی کے ٹینکرز کی جانب جن کے ڈرائیور حضرات اندھا دھند گاڑی دوڑاتے ہوئے بالکل ایسے لگتے ہیں کہ جیسے یہ نشہ کر کے گاڑی چلا رہےہیں اور کیا پتا واقعی کرتے بھی ہوں ۔
اپنے بزرگوں سے ہمیشہ ایک جملہ سنا کرتے تھے کہ پانی سے سستی کیاچیز ہوسکتی ؟تو بزرگوں جواب یہ ہے کہ آج کراچی میں پانی مہنگا ہے اور کراچی کے نوجوان کا خون سستا ہے جو کسی بھی واٹر ٹینکر کے نشئی ڈرائیور کے ہاتھوں با آسانی بہایا جا سکتا ہے۔ پورے ملک کو پچھتر فیصد ریونیو کما کر دینے والا کراچی آخر کب تک زبوں حالی کی تصویر بنا رہے گا، سمجھ سے باہر ہے ۔
بلدیاتی الیکشن کی تاریخ پر تاریخ تاریخ پر تاریخ پرایک فلم کا وہ جملہ یادآرہا ہے کہ"جج صاحب یہاں ملتی ہے تو صرف تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انصاف نہیں ملتا"خدارا بلدیاتی الیکشن کرا دیئے جائیں اور یہاں سے کردار شروع ہوگا۔ کراچی کی عوام کا اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں آزمائے ہوئے کو نہ آزمائیں پڑھی لکھی باشعور قیادت کو شہرکی باگ ڈور سونپیں جو اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی دن رات اس شہر کی فکرمیں لگی رہتی ہو ۔ایسی ایک جماعت آپ کے بیچ میں موجود ہے۔ اب تو آنکھیں کھول کر اچھے برے کا فرق پہچان کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں اور اس شہر کی تقدیر بدلنے والی جماعت،جماعت اسلامی سےجڑجائیں انشا اللہ یہ شہرپھرعروس البلاد کہلائے گا۔





































