
نزہت ریاض
"عالیہ یہ رقم سنبھال کر رکھ دو میں نے بینک سےنکلوائی ہے۔ کل سیلاب زدگان کے لیے سامان خریدنے جانا ہے" اظہر صاحب
نے بیگم کو ایک خطیر رقم پکڑاتےہوئےکہا بیگم نےرقم لیتے ہوئے کہا "آپ تو کہ رہےتھے بزنس نقصان میں جا رہاہے پھر اتنی زیادہ امداد کیوں کررہے ہیں؟"
اظہرصاحب مسکراتے ہوئے گویاہوئے"ارے بیگم بزنس تو ابھی نقصان میں جارہا ہےنا۔ساری زندگی سےتو میں منافع ہی کما رہا ہوں ۔۔۔ پھر کیا میں اس مصیبت اور آفت کے وقت ان لوگوں کے کام کیوں نہ آؤں اورمجھے اللہ پر یقین ہےآج نقصان ہے تو انشا اللہ کل منافع بھی ہوگا "بیگم نے مطمئن انداز میں رقم سنبھال کر رکھ دی۔
دوسرے دن اظہر صاحب مارکیٹ سےسیلاب زدگان کےلیے ضرورت کا ساراسامان مثلاً خیمے، کمبل ؛بسترخشک اناج اور دوائیں وغیرہ خریدیں اورایک کیمپ پر ساری چیزیں پہنچا دیں ۔ اب ان کے دل کوایک اطمینان ہوگیا کہ میں ان آفت زدہ لوگوں کے کچھ کام آسکا ۔
ایک ہفتے بعد اظہر صاحب اپنےآفس میں کام میں مصروف تھے کہ دروازے پردستک ہوئی جی آجائیں ۔۔۔ اظہر صاحب کا منیجر کمرے میں داخل ہوا اور مسرت بھرے لہجے میں بولا "سرآپ کے لیےخوشخبری ہے۔ "وہ کیا بھئی ؟اظہر صاحب نے چونک کرسوال کیا سر آپ نے خواجہ اینڈ سنز کو جوبزنس ڈیل ایک مہینے سے دی ہوئی تھی اور جومنظور ہونے میں نہیں آرہی تھی۔۔ ابھی ابھی ان کی ای میل آئی ہےانہیں ہماری ڈیل منظورہے اوراب ہم ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا حصہ ہوں گے۔
اظہر صاحب کے منہ سے بے اختیار کلمہ شکر ادا ہوئےاوروہ خوش خوش گھرگئے اوراپنی بیگم کو بھی یہ خبر سنائی اور بولے"دیکھو بیگم میں کہتا تھا نہ کہ اچھے عمل کبھی رائیگاں نہیں جاتے میں نے خلوص نیت سے سیلاب زدگان کے لیے تھوڑی سی رقم خرچ کی تھی۔ اللہ نے مجھے کتنا بڑا منافع دیا ہے"
اظہر صاحب کی بیگم بھی اللہ کا شکرادا کرتے ہوئے بولیں ۔۔ واقعی عملوں کا دارومدارنیتوں پر ہے اللہ مجھے معاف کرے اس وقت میں نے ناشکری کی تھی ۔





































