
صبا احمد
میرے نزدیک ہر انسان جس کا کام کرتے پسینہ بہتا ہے ،وہ محنت کش ہے مزدور ہے، چاہے وہ گھر میں کام کرنے والی ماسی ہو
،کسی فیکٹری، کارخانہ اور اینٹوں کے بھٹے میں کام کرنے والایا کھیتوں میں ہل چلانے والا کسان ہو ، ان کا کسی نہ کسی صورت میں استحصال ہوتا ہے ۔۔۔۔
ان سے جتنا کام لیا جاتا ہے، ان کو اتنا معاوضہ نہیں دیا جاتا ۔اگر کوئی ہنر مند ایماندار ہے تو اس کی مزدوری یا اجرت مالکان ادا نہیں کرتے وہ اپنی شرافت اور مجبوری میں بیروزگاری سے بچنے کے لیے کم معاوضے میں بھی کام کرتے ہیں ۔۔۔کچھ لوگ اس کے برعکس ہیں،کام چوری کرتے ہیں ،مگر زیادہ تر محنت کش طبقہ جو صنعت وحرفت کی ریڑھی کی ہڈی کی حیثیت ہے جن کے خون سے صنعت چلتی ہے ۔وہ غربت کا شکار یارو مددگار ہیں جو ترقی کا ایندھن ہے ،ان کے اپنے گھر کا چولہا بڑی مشکل سے جلتا ہے کارخانوں کے پہیے جن کے زور بازو سے چلتے ہیں وہ معذور ہو جائیں تو سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے بھی نہیں جاتے شرم کے مارے ۔۔۔۔
ان کی کوئی سر پرستی نہیں کرتا جنہوں نے ساری زندگی انہیں اپنے خون سے سینچا ہوتا ہے ۔بوڑھاپے میں پینشن تو درکنار کھانے کے لالے پڑجاتے ہیں ۔تعلیمی اداروں کو چمکانے والوں کے بچے ان پڑھ رہتے ہیں ۔شادی ہالوں میں کام کرنے والے بچے باراتیوں کے جھوٹے کھانے کا رات گئے تک انتظار کرتے ہیں ۔بڑے بڑے حکومتی ایوانوں میں بیرے بازی کھانے کو ترستے ہیں ۔کسان جو زراعت کا اہم پہیہ ہے۔۔۔ دنیا کے لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے ہر طرح کا اناج اور سبزی اور پھل اگاتا ہے ۔خود بچا کچھا یا گلا پھل کھاتا ہے ۔مشکل سے آلو روٹی اور دودھ کی چھاج پیتا ہے ۔سب اشیائے خورو نوش تاجر مہنگے دام اچھی اقسام بیرون ملک بھیجتے ہیں۔
عوام تیسرے درجے کے معیار کی چیزیں استعمال کرتی ہے اور محنت کش کو پورا معاوضہ تو دور کی بات وہ روٹی کپڑا اور مکان سے بھی محروم ہوتا ہے ،
جوتپتی گرمیوں کے دوپہر اور سردیوں کے سرد دن رات کام میں کرتے ہیں ۔ان کو قرضے کی سہولت دے کر ان کی زمینیں گروی رکھ لی جاتی ہیں ۔کھیت کھلیان میں کھاد خریدنے میں آڑتیوں کے تلوے چاٹنے پڑتے ہیں۔انہیں فصلوں کے لیے زمین کی تیسری ضروری معلومات تربیت کس فضل کو بونا فائدہ مند ہے آگاہ نہیں کیا جاتا تو کبھی زیادہ فصل ہو تو وہ سڑکوں پر رلتی ہے اور سبزی منڈی کے ٹھیکدار کم قیمت انہیں دیتے ہیں جس سے کھاد کے پیسے بھی پورے نہیں ہوتے ،ان کی محنت کا تو کوئی مول ہی نہیں ۔۔۔۔
"پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ادا کردو ۔"
یوم مئی اسی وجہ سےمنایا جاتا ہے ؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے دین کی پیروی کم اوریہود ونصاری ٰکے قوانین کی غلامی اور پاسداری زیادہ کرتے ہیں ۔
جرمن امریکا برطانیہ کے مزدوروں نے آواز اٹھائی اپنے اوقات کار مزدوری کی اجرت میں خواتین نے کہا "ہمیں مردوں کے برابر اجرت دی جائے بیشک وہ صنف نازک ہونے کے باوجود مردوں کے برابر کا کام کرتی ہیں ،ان کی بھی اتنی مزدوری ہونی چاہیے ،مگر مسلمان جانتے ہوئے ان کا دین کہتا ہے کہ " جو خود کھاؤ پہنو وہ ہی اپنے غلام یا ملازم کو دو "
"مظلوم کی آہ سے بچو "
مزدور بھٹوں میں 18گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور ان سے قیدیوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے، آرام کے لیے ہفتے کی ایک چھوٹی بھی نہیں میسر ۔
تو خوف خدا نہیں جاگتا۔!
اب یہاں حکومت و قت کی اہم ذمہ داری ہے کہ جس طرح ایوانوں میں بیٹھے وزیر سینٹر عیش کر رہے ہیں، مزدروں کے لیے بھی آسانیاں اور مراعات فراہم کیں جائیں۔ بہت سےسرکاری ا فسران کو فری پٹرول دیا جاتا ہے ، گاڑی ،بنگلہ دیا جاتا ہے مگر معمار جو لاتعداد ہائی رائز عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اپنے ہاتھوں کی مہارت سے خود آخری دم تک کرائے پر یا بے گھر رہتے ہیں ، ملک کا ہر شہری مزدور ہے، انہیں سستی سفری سہولتیں فراہم کیں جائیں،سستے گھر دئیے جائیں ۔
ایران اور امریکہ کی جنگ میں کہیں دنیا میں پٹرول مہنگا نہیں ہوا تھا جتنا پاکستان میں ہوا ہے پنجاب کی حکومت نے اورنج ٹرین اورلوکل ٹرانسپورٹ کو عوام کے لیے فری کر دیا ہے اسی طرح پورے ملک میں کیاجائے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔۔۔۔۔مزدور دشمن نظام بدلہ جائے ان کے استحصال کو روکا جائے ،فری میڈیکل سہولت فراہم کی جائے ۔دفتر سے لے کر ہر لوہار ،بڑھئی معمار اور کچرے والے کی عزت و توقیر کی جائے ان کو بنیادی انسانی حقوق دئیے جائیں ۔یہ یوم مئی کو منانے کا تقاضا ہے ۔




































