
عشاء بنت فاروق
آج میں تم سے بات کرنے بیٹھی ہوں تو دل کے نہاں خانوں میں چھپے وہ سب احساسات جاگ اٹھے ہیں جنہیں میں برسوں سے لفظوں میں ڈھالنے سے
کتراتی رہی۔ تم ہی تو ہو جو میرے ہر دکھ، ہر خوشی اور ہر الجھن کے گواہ ہو۔ جب دنیا نے مجھے سمجھنے سے انکار کیا، تم نے میری خاموشی کو بھی زبان دی۔
اے میرے وفادار قلم، تم نے کتنی بار میرے آنسوؤں کو سیاہی میں بدل کر کاغذ پر بکھیر دیا۔ تم نے میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو بھی اس طرح سمیٹا کہ وہ کہانی بن گئے۔ جب دل بوجھل ہوتا ہے، میں تمہیں تھام لیتی ہوں اور یوں لگتا ہے جیسے کوئی پرانی دوست میرا ہاتھ تھام کر کہہ ررہی ہو کہ "میں ہوں نا"۔تم جانتے ہو، کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان بیان نہیں کر سکتی۔ وہ صرف محسوس کیے جا سکتے ہیں اور تم ان محسوسات کو لفظوں کا پیرہن پہنا دیتے ہو۔ تم میری تنہائی کے ساتھی ہو، میری سوچوں کے امین ہو اور میرے رازوں کے محافظ ہو۔
کتنی عجیب بات ہے نا، لوگ کہتے ہیں کہ قلم صرف لکھنے کا ذریعہ ہے، مگر میرے لیے تم ایک جیتا جاگتا وجود ہو۔ تم میرے دل کی دھڑکنوں کو سنتے ہو، میرے ذہن کی الجھنوں کو سلجھاتے ہوباور میرے اندر کے طوفان کو سکون میں بدل دیتے ہو۔کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر تم نہ ہوتے تو شاید میں اپنے احساسات کے بوجھ تلے دب جاتی۔ تم نے مجھے سکھایا کہ دکھ کو لفظوں میں ڈھالنا بھی ایک علاج ہے، ایک سکون ہے۔ تم نے میرے زخموں کو کریدنے کے بجائے انہیں بھرنے کا ہنر دیا۔
میرے ہم راز، تم سے میرا رشتہ الفاظ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ایسا بندھن ہے جو نہ وقت کی قید میں ہے نہ حالات کی گرفت میں۔ جب تک میری سانسیں چلتی رہیں گی، تم میرے ساتھ رہو گے، میرے احساسات کو دنیا تک پہنچاتے رہو گے۔آخر میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم میرے لیے صرف ایک قلم نہیں بلکہ میری آواز ہو۔ وہ آواز جو کبھی خاموش نہیں ہوتیجو ہر حال میں سچ بولتی ہے۔
تمہاری
ایک خاموش دل کی دوست





































