
عشاء بنت فاروق
مہنگائی آج کے دور کا ایک ایسا اہم ترین مسئلہ ہے جس نے ہر فرد کی زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک عام انسان کی
روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے مسئلہ نام ہے۔ جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو سب سے زیادہ اثر متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے، جن کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوتا ہے۔
مہنگائی دراصل صرف حکومت یا معیشت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی رویّوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور بے جا اخراجات جیسے عوامل اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ہم اکثر شکایت تو کرتے ہیں مگر اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں ہمیں صبر، سادگی اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری اخراجات سے بچنا، بچت کی عادت ڈالنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر معاشرے کے افراد ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں تو مہنگائی کا بوجھ کچھ حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر پالیسیاں بنائے مگر عوام کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ ایمانداری، دیانتداری اور اعتدال پسندی جیسے اصول اپنانے سے ہم اس مسئلے کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں۔مہنگائی ایک آزمائش ہے اور اس کا مقابلہ ہم صبر، اتحاد اور سمجھداری سے ہی کر سکتے ہیں۔




































