
عرشمہ عر
نہ چاہتے ہوئے بھی وقت کا سرکتا سرا ہاتھ سے چھوٹنے کو تیارہے اور میں اس کوشش میں سرگرداں کہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے
تو کوئی حل تلاش کروں،سوشل /میڈیا کھنگالابے شمار اشتہارات جہاں دیکھو وہاں ببانگ دہل مختلف تربیتی ادارے (ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا)کے مصداق اپنا راگ الاپ رہے تھےجن میں سے متعدد اسکولوں کے دئیے گئے نمبروں سے مدھر گفتگو کے اختتام پر فیس بتاتے ہوئے بچا کچا خون جو بڑی محنت سے چند دن پہلے علاج کے سبب علاقے کے ڈاکٹر نے چھوڑا تھا مگر وہ بھی جلا کر خاک کردیا۔۔
کانوں میں انڈلتے زہر کو بہ حالت مجبوری اندر اتارتے ہوئے معذرت چاہی اور فون بند کردیا۔ہمارے زمانے کی ماؤں کو اس تکلیف سے گزرنا نہیں پڑتا تھا۔علاقے کا ایک اسکول جس میں محمود و ایازایک ہی چھت کے نیچے بلا تفریق پڑھتے،سیکھتے،سمجھتے اور فرمابرداری کی مثال قائم کرتے تھے۔کم بخت موبائل پر آنے والی تعلیمی ویڈیوز کو اکثریت کی طرح اپنے تئیں کچھ نیا سکھانے کی دھن میں مگن بچوں کو دکھا کر اب نہ تو گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔۔
بچوں کو اب اسی طرح کے اسکولوں میں پڑھنا ہے ،اپنے اسکول میں مزہ نہیں آتا۔ہماری ٹیچر ایسا نہیں پڑھاتی ہے ۔وہ یوٹیوب جیسی ٹیچر کی طرح سمجھاتی ہی نہیں بلکہ جو پڑھاتی ہیں اگر اسی میں سے کوئی سوال پوچھ لیں تو اگلی بار کچھ پوچھنے جیسا رہنے نہیں دیتیں۔ اب کم عقل بچوں کو ڈالر کی اہمیت کون سمجھائے بھلا۔۔
گئے دنوں کے بھی کیا ہی مزے تھے۔اماں نے اسکول بھیجا،بچہ پڑھ کے آیا اور بات ختم۔۔اب دن رات پڑھو،پڑھاؤ کا راگ سن سن کر بچہ والدین اور استاد سب پریشان ہیں۔پورا سال انتھک محنت کے بعد چند ایک کے علاوہ تعلیم بہت کم میسر، اس پر لوٹ کھسوٹ کی سودے بازی میں سالانہ امتحانات کی انکشاف کرتی رپورٹ کہ بچہ پڑھائی میں کمزور ہے۔ کہاں سر کو دے ماریں۔ ہمارے وقتوں میں تو سب ہی اول آتے تھے۔ نہ کوئی دوم نہ ہی سوم۔
بچے پٹکیاں کھا کھا کر نمبروں (اخلاقی اطوار )سے نیچے گرتے نظر آتے ہیں،بہرحال پانچوں انگلیاں دیکھنے پر پتا چلا کہ واقعی وہ برابر نہیں ہوتیں۔بہت سے بچے آج کل کی بہتی گنگا سے پوتر ہو ہی جاتے ہیں۔ پر ایسوں کا شمار آٹے میں نمک جیسا ہے۔
گزرے زمانے میں اردو،انگریزی،سندھی،پنجابی سب زبانیں عام و خاص سے روشناس تھیں۔
ڈاکٹر،وکلاء،انجینئر،استاد پہلے بھی ہوتے تھے ؟؟؟؟
ادب،فقہا،غزل،مزاح الغرض شعر و نعت پہلے بھی پڑھی جاتی تھی؟؟؟
جدید تعلیم کے حصول میں مگن "فرد بشر "کہیں گم ہوگیا ہے۔۔۔
بچے مہنگی تعلیم خرید کر کامیاب ہونے کے بعد منتخب عہدے پر پہنچ کر اسے مہنگے داموں فروخت پر مجبور ہیں کہ انہیں بھی تو اپنی آنے والی نسل پروان چڑھانی ہے۔بےشمار بچہ حصول علم کی خاطر صبح کا گیا رات کو بس گھر سونے آتا اور جاتا ہے۔
اس معیاری تعلیم کی چکا چوند نےمہمان نوازی،حسن سلوک ہر رشتے کو دیا جانے والا معیاری وقت اور نجانے کیا کیا بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اب ان سب باتوں کے لیے بھلا فالتو وقت کس عقلمند کے پاس ہوسکتا ہے؟اوون میں پہلے سے پکا رکھا کھانا گرم کرکے کھانے والی اولاد ماں کے مہکتے پکوان کی خوشبو کو کہیں مدھم کررہی ہے۔
اہل محلہ ہفتوں ایک دوسرے سے ملے بغیر ایک دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھ والی حس کھو چکے ہیں۔کتابوں کے ڈھیر، فیسوں کے بوجھ مہنگے تعلیمی اداروں کے حصول نے والدین کو حرام حلال کے فرق سے نا آشنا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔یہ کیسی ڈگر ہے جس پر آج سب چلنے کو تیار اپنی اپنی زنبیل بھرنے کی ہوس میں صحیح غلط کے درمیان کھنچی لکیر کو مٹا رہے ہیں۔
تعلیم عام و خاص کا حق ہے۔۔
خدارا اس حق کو بچوں تک پہنچنے والی ڈگمگاتی سیڑھی کو تھام کر ہر فرد واحد اپنا اپنا کردار احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت کی رفتار ہمیں پیچھے چھوڑ دے۔ آج کی بہتر تعلیم کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ہر بچہ انمول ہوتا ہے کہ ماں کو تو اس کے لال جیسا کوئی نہیں دکھتا۔ دعا ہے کہ ہر ماں کا لال گوہر نایاب بن کر اپنی قدر پائے۔آمین




































